تاریخی مذہبی عمارتوں پر ”سفید چونا“ کرنے پر سندھ حکومت تنقید کی زد میں آگئی

سندھ حکومت اس وقت مشکل کا شکار ہوگئی جب انہوں نے حیدرآباد میں واقع یادگار ٹنڈو فضل مسجد کی تعمیراتی کام کے بعد اس کی تصاویر شیئر کیں، بجائے تزئین و آرائش کے کام پر حکومت کو داد ملنے کے عوام نے حکومت کو تاریخی ورثے کو برباد کرنے کے الزامات لگادیئے۔

حکومت سندھ کے کلچر ، سیاحت کے محکمہ نے ٹنڈو فضل کی تزئین و آرائش کے بعد اس کی چند تصاویر شیئر کیں جسے بعد میں شدید تنقید پر ڈیلیٹ کردیا گیا، عوام کا کہنا تھا کہ تاریخی ورثے کو وائٹ واش کرکے حکومت نے اس کے حسن کو برباد کردیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ پاکستان میں کسی تاریخی عمارت کو محفوظ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر سفید رنگ کردیا جائے۔


ایک اور صارف نے لکھا کہ غیر صلاحیت یافتہ افراد ہیں کیا وزیر ثقافت سندھ نے 5 ویں جماعت سے آگے تعلیم حاصل کی ہے؟ ایسے لوگوں کو تاریخی ورثے کے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہیے، ان کا مقصد صرف پیسے بنانا ہوتا ہے ، ایک کنٹریکٹ دو اور اپنا کمیشن لو۔

جنید نامی ایک صارف نے لکھا کہ میں کوئی ماہر نہیں ہوں مگر کسی عمارت کو سفید رنگ کیسے محفوظ بناسکتا ہے؟

نادیہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے کا طریقہ یہی ہے کہ ان تمام مقامات کو بینظیر کے گڑھی خدا بخش مزار جیسا بنادیا جائے، مجھے تو مہنجو داڑو کی فکر ہورہی ہے

سندھ حکومت کی جانب سے ٹوئٹ ہٹانے پر بھی صارفین نے طنزیہ پیغامات کی بوچھاڑ کی۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھ اکہ سندھ حکومت کو یقیناً احساس ہو گیا کہ بحالی سے متعلق ٹویٹ بیک فائر ہوئی۔ ٹویٹ تو ڈیلیٹ ہو ہی سکتی ہیں بس بحالی کے کام پر توجہ دیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >