آئی سی سی ورلڈ کپ خاکے میں پاکستانی نمائندگی نہ ہونے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

آئی سی سی کی جانب سے شیئر کیے گئے خاکے میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

بی بی سی کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پہلے بھی مختلف تنازعات اور جانبداری کے الزامات کی زد میں ہے مگر گزشتہ روز ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک خاکے میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود شیئر کرنے پر آئی سی سی شدید تنقید کی زد میں ہے۔

گرافکس سے بنے ہوئے اس خاکے میں ٹی 20 کھیلنے والی مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں کی عکاسی کی گئی ہے مگر اس خاکے میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں جس پر سوشل میڈیا صارف سیخ پا ہو گئے ہیں۔

ڈیو ویب نامی خاکہ نگار کے بنائے گئے اس گرافک میں 15 ٹیموں کی نمائندگی ہے جبکہ کوئی پاکستانی کھلاڑی اس میں شامل نہیں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس خاکے میں سے پاکستان کو غائب کرکے بھارت کو مرکزی جگہ دی گئی ہے۔

راحیل نامی صارف نے آئی سی سی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسی کوئی پوسٹ کیسے منظور کر سکتے ہیں جس میں ایک ایسی بڑی ٹیم کی نمائندگی نہیں، ایسی ٹیم جو ایک ٹی 20 ورلڈ کپ کو چھوڑ کر باقی تمام میں کم از کم سیمی فائنلز تک ضرور پہنچی ہے۔اس صارف نے اسے عمل کو ’گری ہوئی حرکت‘ قرار دیا ہے۔

جہانزیب ڈوگر نامی صارف کا کہنا تھا کہ عموماً آئی سی سی کے ٹوئٹر ہینڈل سے سب کو نمائندگی دی جاتی ہے مگر اس طرح کی حرکت ناقابل قبول ہے، اس نے لکھا کہ پاکستانی ٹیم حال ہی میں ٹی20 کی نمبر ون ٹیم بھی رہی ہے بہتر ہو گا آئی سی سی اسے ٹوئٹر سے ہٹا دے۔

داؤد چیمہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے یہ خاکہ شیئر کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان کے بغیر بھی سب ٹھیک ہے۔

انجینئر فہیم گنڈاپور نے لکھا کہ آئی سی سی نے خود کو بہت چھوٹا ثابت کیا ہے، کیسے ہو سکتا ہے کہ باقی سب کھلاڑی تو ہوں مگر پاکستان سے کسی کھلاڑی کو شامل ہی نہ کیا گیا ہو۔
انہوں نے لکھا کہ اس گرافکس کو بلاتاخیر ہٹایا جائے۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو اس پر سخت ایکشن لینا چاہیے۔

سید سعود نامی صارف نے لکھا کہ آئی سی سی کی اس حرکت کے بعد میں آئی سی سی کو ٹوئٹر پر ان فالو کر رہاہوں کیونکہ اگر ہمارے ملک کا کوئی کھلاڑی اس گرافکس میں آنے کے قابل نہیں تو آئی سی سی بھی اس قابل نہیں کہ اس کو فالو کیا جائے۔

بات جب کرکٹ کی ہو تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی نمائشی یا گروپ سطح کا میچ بھی ورلڈ کپ کے فائنل جتنا سنسنی خیز ہو جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے تماشائیوں کے درمیان گھروں سے لے کر دفاتر تک اور ٹی وی سے لے کر سوشل میڈیا تک جنگ کا سا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔

تاہم اس خاکے پر کئی انڈین صارفین بھی پاکستانی مداحوں کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔

کرشنا شرما نے لکھا کہ بابراعظم کو اس گرافک میں مرکزی مقام حاصل ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت وہ ٹی20 کرکٹ کے نمبر ون کھلاڑی ہیں۔

ڈاکٹر عظمت خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ بہت بُری بات ہے کہ اس میں کوئی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں۔ ان کے جواب میں ایک انڈین صارف وکرم وشیشت نے لکھا کہ ’سچ بات ہے، (بابر) اعظم کو (اس خاکے میں) ہونا چاہیے تھا۔‘

اور چونکہ آئی سی سی اپنی ٹویٹ میں خاکہ نگار ڈیو ویب کو ٹیگ کر چکا تھا، اس لیے کئی لوگوں نے اُن کی پروفائل پر جا کر اُن کی توجہ اس جانب دلائی اور پاکستان کو شامل نہ کرنے پر ان پر تنقید کی۔

ہارون احمد نے ڈیو ویب کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی کھلاڑی بابر اعظم کی ٹی 20 رینکنگ پوسٹ کی۔

اس کے جواب میں بالآخر ڈیو ویب نے لکھا کہ گرافک بناتے وقت ان کے سامنے کئی لیئرز تھیں جس کی وجہ سے وہ نادانستہ طور پر اس سے صرفِ نظر کر گئے۔

انھوں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اس خاکے میں ترمیم کر رہے ہیں۔

  • خاکہ بنانے والے نے اپنی غلطی مان کر معافی مانگی ہے اسے معاف کرنے کے بعد
    بتایا جاے کہ خاکے میں جس جگہ کوہلی کی فوٹو ہے وہاں بابر اعظم کی لگاے کیونکہ بابراعظم رینکنگ نمبر ون ہے اور کوہلی بہت دور بھی نہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >