میزبان ندا یاسر نے 5 سالہ بچی کے والدین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی

میزبان ندا یاسر نے 5 سالہ بچی کے والدین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی

اداکارہ و میزبان ندا یاسر نے کراچی میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی پانچ سال مروہ کے والدین کو اپنے مارننگ شو میں بلا کر ان سے نازیبا سوالات کرنے پر معافی مانگ لی ہے، ندا یاسر نے معافی سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک وڈیو پیغام میں مانگی ہے۔ ندا یاسر نے معافی کا پیغام سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور معافی کے مطالبے کے بعد جاری کیا  ہے۔

ندا یاسر کا سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ” سب سے پہلے تو میں معافی مانگنا چاہوں گی۔ میں آپ لوگوں کو ناراض نہیں دیکھ سکتی۔ تو اگر جانے انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی بات یا کوئی ایسا سوال ہوا ہے تو میں ہاتھ جوڑ کر آپ لوگوں سے معافی مانگتی ہوں”۔

ندا یاسر کا اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ "میں بھی انسان ہوں مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے میں بھی حواس باختہ ہو سکتی ہوں، میری آپ سب سے درخواست ہے کہ مجھے تھوڑا مارجن دے دیا جائے، میں کوشش کروں گی کہ آئندہ ایسا کچھ نہ ہو بلکہ میں کوشش کروں گی کہ آئندہ بہت احتیاط کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم رکھوں”۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کراچی میں پانچ سالہ بچی مروہ جسے زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا، اس کے والدین کو میزبان ندا یاسر نے ان کے تاثرات جاننے کے لیے انہیں اپنے مارننگ شو میں بلایا تھا ، جس میں ندا یاسر نے بچی کے والدین سے ایسے ایسے نازیبا سوالات پوچھے کہ بچی کی والدہ کا زار و قطار رونے لگی۔

شو کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ندا یاسر پر شدید تنقید کا طوفان برپا ہو گیا، جس میں سوشل میڈیا صارفین نے ندا یاسر کو اپنی حرکت پر فوری بچی کے والدین سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔

سوشل میڈیا صارف محمد زرشال طارق نے ندا یاثر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں لکھا کہ ” ندا یاسر کو فوری طور پر میزبانی کرنے سے روک دینا چاہیے، ندا یاسر نے مظلوم والدین سے مضحکہ خیز سوالات پوچھ کر ان کا مذاق اڑایا ہے”

ایک اور محمد حضران نامی سوشل میڈیا صارف کا ندا یاسر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ” ندا یاسر نے حال ہی میں کراچی میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی کے والدین کو اپنے شو میں بلا کر ان سے اخلاقیات سے گرے ہوئے سوالات کیے ، تمام مارننگ شوز بند کر دینےچاہیں کیونکہ ان کے ذریعے معاشرے میں صرف بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے”

واضح رہے کہ پانچ سالہ بچی مروہ رواں ماہ چار ستمبر کو صبح سات بجے قریبی دکان سے بسکٹ لینے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پھر لاپتہ ہوگئی، جس کے 48 گھنٹے بعد یعنی چھ ستمبر کو بچی کی  لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی تھی۔

  • She is asking viewers for forgiveness. Again, targeting the TRP factory.
    Go to Marwas house, and ask her parents to forgive you for asking such questions. They will forgive you, but its far more important for you to learn a lesson from this.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >