ورزش کرتی خاتون کی ویڈیو شئیر کرکے تنقید کرنا انصارعباسی کو مہنگا پڑگیا

انصار عباسی ایک عرصہ سے فحاشی کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔وہ اکثر فحاشی کے خلاف اکثر وبیشتر وہ کالم لکھتے رہتے ہیں اور بعض اوقات تو تنقید کی زد میں آجاتے ہیں۔ایسا ہی گزشتہ روز ہوا جب انصار عباسی نے پی ٹی وی کے ایک پروگرام کا کلپ شئیر کرکے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کیا تو فوادچوہدری سمیت دیگر سوشل میڈیاصارفین نے انصار عباسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

انصار عباسی نے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے ایک شو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’وزیراعظم صاحب، یہ پی ٹی وی ہے۔‘

17 سیکنڈ کے اس کلپ میں، جس پر انصار عباسی نے اعتراض اٹھایا، ورزش کا لباس زیب تن کیے خاتون کو ایک مرد ٹرینر کے ساتھ ورک آؤٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ شاید یہی چیز انصار عباسی کو نامناسب لگی اور انصار عباسی کی نظر میں یہ فحاشی ہے۔

اس کلپ پر فوادچوہدری نے انصارعباسی کو نفسیاتی علاج کرانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ورزش سیشن اور اشتہاری بورڈز پر خواتین کی تصویر آپ کو ہیجان میں مبتلا کرتی ہے تو ، آپ کو واقعتا نفسیاتی تھراپی اور مشورے کی ضرورت ہے …..

جس پر انصار عباسی نے فوادچوہدری کو جواب دیتے ہوئےلکھا کہ آپ اس حکومت کا حصہ ہیں جو ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق پاکستان کی تعمیر نو کا دعویٰ کرتی ہے۔ کیا آپ وضاحت کریں گے کہ آپ قرآن و سنت اور آئین پاکستان کی روشنی میں کس چیز کی حمایت کرتے ہیں۔

انصار عباسی کے ٹویٹ پر ہاں عمران خان صاحب پلیز دیکھیں کہ صرف عورت ورک آؤٹ کررہی ہے اور مرد نہیں ہے ، یہ غیر صحت بخش ہے۔ دونوں کو ورک آؤٹ کرنا چاہئے

جس پر انصار عباسی نے کہا کہ میں آپکی ٹرولنگ کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ آپ اسلامی شو کررہی ہیں اور آپ سے توقع کرتے ہیں کہ اپنے فالورز کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ارشاد فرماہا ہے۔ واضح طور پر یہ سورہ نور کی آیت نمبر 31 ہے۔ کیا اب بھی ایک اسلامی ملک کے سرکاری ٹی وی پر اس قسم کی تشہیر کا جواز پیش کریں گی؟

جس پر رابعہ انعم نے جواب دیا کہ بالکل ٹھیک کہا آپ نے، انصار بھائی میں معذرت چاہتی ہوں لیکن آپ قرآن پاک کی آیت نمبر 30 مس کرگئے ہیں کہ مومن مردوں سے کہہ کہ اپنی نگاہیں نیچے رکھیں۔ آپ ویڈیو شئیر کرگئے ہیں، اس ویڈیو کو بہت سے مرد آپ کی وجہ سے ہی دیکھیں گے۔

رابعہ انعم نے مزید کہا اب آپ اسے ڈیلیٹ کردیں تاکہ اور لوگ گنہگار نہ ہوں۔

انصار عباسی کے اس ٹویٹ پر دیگر سوشل میڈیا صارفین نے تبصرے کئے اور کہا کہ جس چینل پر آپ کام کررہے ہیں وہ بھی اس قسم کی بہت زیادہ فحاشی پھیلا رہاہے۔سوشل میڈیا صارفین نے انصار عباسی کو سوچ بدلنے کا مشورہ بھی دیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال اٹھایا کہ سر آپ کا مسلہ اصل میں ہے کیا؟ ایسی ویڈیوز اور تصاویر دیکھنے سے آپ کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے یا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے؟

  • اسلام کہ مطابق تو یہ فحاشی کہ زمرے میں ہی آتا ہے. اب جسے تکلیف ہے وہ انصار عباسی کو چھوڑ کر اسلام پر تنقید کرے. انصار عباسی تو وہی بیان کر رہا ہے جو سچ ہے

  • یہ آرٹیکل کس لعنتی نے لکھا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پہ بنا ہے یہاں یہ بیحیائی بیہودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
    کوئی چکلے میں پیدا ہوا ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں وہ سبکو اپنی طرح بیغیرت اور بے حیا سمجھے۔

  • بلا شبہ ہم بدقسمت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں دین کی رہنمائی میں حق بیان کرنا ہتھیلی پر انگارہ رکھنے کے برابر ہے

  • انصار عباسی صاحب، آپ درست ہو مگر اب یہ ممکن نہیں رہا کہ میڈیا کو کوی بھی کنٹرول کرسکے، میں وہی طریقہ بہتر سمجھتا ہوں کہ جو شراب کو حرام سمجھتا ہے وہ اس کو مت چھوے اورجو عورت کو با پردہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس کی تربیت کریں اور جبر نہ کریں یہ اسلام میں جائز نہیں ہے

  • Kehte hein k messenger ko mat dekhein uss k message ko samjhein, Insar Abbasi ka message to theak hai magar wo khud Munafiq hai, aik taraf choro k saath khara hai, qatiloo k saath, gareebo ka khoon choosne walo k saath, doosri taraf deen e islam ke batein karta hai, janab aap sab se pehle apna kirdaar theak kijiay, ta k aap ke kahi hoi baat per log amal karein aur kahein k insar abbasi ne baat ke hai such he kaha hai, munafqat aur islam dono saaath nahi chal sakte


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >