‘میں پٹھان سے شادی نہیں کروں گی’۔وائرل ویڈیو پر ٹویٹر صارفین کی تنقید

میں پٹھان سے شادی نہیں کروں گی" ۔ وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید"

نسل پرستی سے انکار کرنے کے موضوع پر بنائی گئی ویڈیو میں پشتین کو ‘شدت پسند’ سے ملادیا گیا جس پر سوشل میڈیا صارفین شدید برہم ہوگئے ہیں، اہم شخصیات بھی ناخوش ہیں، ناشپاتی پرائم کے نام سے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی ویڈیو  ویسے تو نسل پرستی کے خلاف بنائی گئی لیکن ‘پٹھان سے شادی نہیں کروں گی’ کے ٹائٹل سے تئیس ستمبر کو ریلیز ہونے والی ویڈیو وائرل ہوئی تو اسے تفریق پھیلانے والی ویڈیو کہا جانے لگا۔

ویڈیو میں ایک لڑکی اور لڑکا شادی کے لیے ایک ریستوران میں ملتے ہیں، لڑکے کے بیٹھتے ہی لڑکی کہہ دیتی ہے کہ اسے ‘پٹھان سے شادی نہیں کرنی کیونکہ وہ غصہ ور، گرم مزاج اور شدت پسند ہوتے ہیں،جب لڑکا اس سے پوچھتا ہے کہ وہ پشتونوں کی بات کر رہی یا پختونوں کی تو وہ کہتی ہے کہ ایک ہی بات ہے۔ وہ پختونوں کے حوالے سے مزید کہتی ہے کہ وہ جب بھی بات کرتے ہیں گلہ ہی کرتے ہیں، منفی بات کرتے ہیں، اس ملک نے دیا ہی کیا ہے؟ تعصب ہی تعصب۔

جواب میں لڑکا اسے بظاہر اس کی بات کا احساس دلانے کے لیے پوچھتا ہے کہ وہ اردو بولنے والی ہے تو اسے کیسا لگتا ہے کہ جب گٹکا کھانے والوں کو ہر اردو بولنے والے سے ملایا جائے؟ جس پر لڑکی تھوڑی کنفیوز ہوجاتی ہے، پھر جواب میں لڑکا کہتا ہے کہ ہمیں بھی برا لگتا ہے جب پختونوں کو ایک شدت پسند پشتین سے ملایا جائے کیونکہ ہر پختون پشتین نہیں ہوتا۔ یہ کہہ کر وہ چلنے کی تیاری کرتا ہے، اور سکرین پر ‘نسل پرستی سے انکار کریں، ہم سب کا تعلق ایک پاکستان سے ہے،’ کا پیغام ابھرتا ہے۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی صارفین نے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پشتونوں اور منظور پشتین کی پختون تحفظ موومنٹ کے خلاف پراپیگنڈا قرار دیا۔

رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے کہاکہ پشتوتوں کے خلاف ایسی نسل پرستانہ باتیں نئی نہیں۔ ہم اسے روز سنتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے لیے انصاف اور حقوق مانگنا ہمیں شدت پسند نہیں بناتا۔

ملالہ یوسفزئی کے والد ضیالدین یوسفزئی نے پیمرا سے اس ویڈیو کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ملک میں سندھیوں، پشتونوں اور بلوچوں کو جنرل ضیا کے دور سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔’

کاشف داوڑ نے لکھا کہ اسامہ بن لادن کو شہید کہنے والے ہمیں شدت پسند کہہ رہے ہیں،پیر عبدل جبار نامی صارف نے کہا کہ وہ پختون ہیں اور شدت پسند نہیں، وہ بس اپنی زمین پر اپنے حقوق چاہتے ہیں۔اسی طرح دیگرصارفین بھی ویڈیو پر شدید برہم ہیں۔

  • People have a different skin colors, different languages, culture and cuisine even living in one country are different nations but citizens of one country….This divide is very deep and even education, and same religion cannot do much about it……..whats come out is your genetic make up…….

  • What is wrong with it…Like the clip…its PTM who is racist…the clip is anti racist…Pakistan hates PTM, this is a racist party…Allah hates them who create divide among muslims….May Allah’s curse be on PTM…

  • the uproar is difficult to understand. The woman and man are trying to explain the faults in the system to people. the women understands the faults and decides to marry the man at the end. what is fault here? Morover the word to be contested is Mohajir. It would have been better if the word was not used. urdu speaking was the most appropriate word. I support Nashpati.

  • Mohsan Dawarh aur Altaf Hussain mein koi faraq nahi. Ye dono apni racist tanzeemo pe tanqeed ko apni nasal pe tanqeed batate hein. Jaise MQM urdu bolne valo ko represent nahi karti waise hi PTM pakhtuno ko represent nahi karti.
    Ye dono tanzeeme sirf or sirf apne agenda ko represent karti he. Dono ka mulk dushman agenda he.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >