امریکی صدارتی امیدوارجوبائیڈن کے انشاءاللہ کہنے پر سوشل میڈیا پر مباحثہ جاری

امریکی صدارتی امیدوارجوبائیڈن کے انشاءاللہ کہنے پر سوشل میڈیا پر مباحثہ جاری

امریکا میں صدارتی انتخابات نومبر میں منعقد ہوں گے اس وقت انتخابی مہم زوروں پر ہے، صدارتی امیدواروں ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان مباحثے میں جہاں ایک دوسرے پر ذاتی نوعیت کے حملے کیے گئے وہیں جو بائیڈن نے لفظ "ان شاءاللہ” کہا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

امریکی صدارتی امیدوار موجودہ صدر ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان مباحثے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ڈیموکریٹک کے امیدوار جوبائیڈن نے عربی کے الفاظ ان شاء اللہ ادا کیے جس کے معنی ہوتے ہیں اگر اللہ نے چاہا۔

اس ویڈیو کے حوالے سے امریکی صحافی اسما خالد نے کہا کہ میں تصدیق کرتی ہوں کہ جوبائیڈن نے ان شاءاللہ کہا اور وہ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ کب ادا کیے جاتے ہیں۔

 

شادی حامد نامی لکھاری نے لکھا کہ اگر ان کو بچپن میں ان کے والدین یہ بتاتے کے کسی صدارتی امیدوار نے اپنی الیکشن مہم کے دوران انشاءاللہ کہا تھا تو وہ یہ سوچتے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے مگر 2020 میں کچھ بھی ممکن ہے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ امریکا کو پہلا مسلمان صدر ملنے جا رہا ہے۔

 

شاہد امان اللہ نامی صارف نے لکھا کہ جو بائیڈن نے صرف محاورتاً نہیں بولا بلکہ انہوں نے سیاق و سباق کے ساتھ کہا ہے جس کا مطلب ہے کبھی نہیں۔

 

  • It seems that he was being sarcastic. He was basically telling Donald Trump that his claim was just like someone saying "Inshallah” and leaving the matter to God instead of doing anything concrete to achieve the task.

  • I think Biden used this inshaAllah in Saudi way. In Saudi Arabia when people don’t want to do anything or unsure they say "bukra InshaAllah” Although the real meaning of "bukra inshaAllah” hopefully tomorrow/God willing tomorrow but saudi use it as if they mean "maybe tomorrow/maybe never”.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >