”میرے دیس کا بسکٹ گالا“بھی فرانسیسی نکلا، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

مہوش حیات کا "میرے دیس کا بسکٹ گالا” بھی فرانسیسی نکلا۔۔ سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

کچھ روز قبل مہوش حیات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نئے کمرشل کی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ چاروں صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈانس کر کے بسکٹ بیچتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جب پر مہوش حیات ٹوئٹر صارفین سمیت، صحافی انصار عباسی اور ملکی وزرا کے ہاتھوں تنقید کی زد میں آگئیں۔

ٹوئٹر پر صارفین پیمرا سے اس اشتہار پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا جس کے بعد پیمرا نے اس اشتہار پر پابندی لگادی۔

اپنے ایک بیان میں پیمرا کا کہنا تھا کہ بسکٹ یا سرف جیسی معمولی سی پراڈکٹ کیلئے اشتہار بنانے کا یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔ اِس رجحان سے ناظرین کی بڑی تعداد میں بے چینی اور عدم اطمینان پیدا ہوا ہے جبکہ یہ پاکستانی معاشرے اور ثقافت کے خلاف ہے۔

کچھ روز قبل جب فرانسیسی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا اعلان کیا تو دنیا بھر میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حق میں مہم چل پڑی۔۔ یہ بائیکاٹ مہم عرب ممالک اور دنیا بھر سے ہوتی ہوئی پاکستان پہنچی تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے بھی فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی اپیل کی۔

اس مہم میں سوشل میڈیا صارفین یہ بات بھی سامنے لائے کہ مہوش حیات بیچاری جس "میرے دیس کا بسکٹ گالا” کیلئے ناچ ناچ کر تھک گئی۔۔وہ پاکستان کی نہیں بھی فرانسیسی کمپنی LU کی پراڈکٹ ہے ۔

اس پر مہوش حیات ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر آگئیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ جس بسکٹ کیلئے مہوش حیات ناچ ناچ کر ہلکان ہورہی تھیں وہ تو فرانسیسی نکلا، ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ مہوش حیات نے جھوٹ بول کر اس بسکٹ کی مشہوری کی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ جب مہوش حیات ناچ ناچ کر کہہ رہی تھیں کہ "میرے دیس کا بسکٹ گالا ” تو ہم یقین کر بیٹھے تھے کہ یہ واقعی پاکستان کی پراڈکٹ ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کسی سے پتہ لگا کہ گالا بسکٹ تو فرانس کا ہے پھر وہ کیوں بولے ہے ” میرے دیس کا بسکٹ گالا میرے دیس کا بسکٹ گالا” ۔۔ اب کوئی صاحب دانش مدد فرما دے کہ خدانخواستہ بائکاٹ کے چکر میں پھر سے غدار نہ کہلوایا جاووں

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ کمال ہوگیا؛ میرے دیس کا بسکٹ گالا…. گاتے اور ڈانس کرتے پاکستانی تھک کر چور ہوگئے تب جاکر پتہ لگا کہ یہ بسکٹ تو فرانس کا ہے اور اس کا بائیکاٹ کرنا ہے!

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ لیکن میرے دیس کا بسکٹ تو ”گالا“ تھا

احمد حسن نے کہا کہ میرے دیس کا بسکٹ گالا۔۔۔ ہم نے ناچ ناچ کے گھنگھرو توڑ دئے اور نکلا پردیس کا بسکٹ گالا۔۔

ایک اور صارف نے کہا کہ میرے دیس کا بسکٹ گالا لیکن اس بسکٹ کو بنانے والی کمپنی فرانس کی۔۔۔۔ دو تالی

فیصل نے کہا کہ جیسے ہی فرانسیسی پروڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم تیز ہوئی ہے، ہر چینل پر LU بسکٹ کے اشتہار بکثرت آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آج غور کیا ہے کہ دیس کا بسکٹ گالا بھی اسی کمپنی کا ہے۔

ایک خاتون صارف نے کہا کہ قوم کیساتھ اس سے بڑا دھوکہ کیا ہوگا کہ جسے دیس کا بسکٹ گالا کہہ کر بیچا جاتا تھا وہ بھی فرانس کی کمپنی کا نکلا میں ہمیشہ کےلئے "لو” کمپنی کے ٹائگر بسکٹ، زیرہ پلس پرنس بسکٹ، بیکری بسکٹ، نان خطائی سمیت تمام بسکٹ کا بائیکاٹ کرتی ہوں ۔آپ بھی بائیکاٹ میں شامل ہوں۔

  • گستاخانہ خاکوں پر طارق جمیل کی منافقت
    فرانس کے طرز عمل پر ساری دنیا سراپا احتجاج ہے، لیکن طارق جمیل منافقانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اسے فکر ہے تو اپنے ویزے کی، عاضح رہے کہ یہ رانگ نمبری یوٹوب پر اپنی وڈیو ڈال کر بے انتہا ڈالر کماتا ہے، مگر ایسے موقعہ پر جب دین کے نام پر کمائی کرنے والے اس ملا کو کھڑا ہونا چاہئے تھا، اس کا رویہ ہے مینوں کی۔۔۔۔
    لوگوں کو ایسے کرداروں کی اصلیت جاننا چاہیے، اور پیروی سے گریز کرنا چاہیے، جو ہمارے پیارے نبی کے لئے قربانی نہ دے سکے اس کا بائیکاٹ کرو۔
    ….

  • گستاخانہ خاکوں پر طارق جمیل کی منافقت
    فرانس کے طرز عمل پر ساری دنیا سراپا احتجاج ہے، لیکن طارق جمیل منافقانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اسے فکر ہے تو اپنے ویزے کی، عاضح رہے کہ یہ رانگ نمبری یوٹوب پر اپنی وڈیو ڈال کر بے انتہا ڈالر کماتا ہے، مگر ایسے موقعہ پر جب دین کے نام پر کمائی کرنے والے اس ملا کو کھڑا ہونا چاہئے تھا، اس کا رویہ ہے مینوں کی۔۔۔۔
    لوگوں کو ایسے کرداروں کی اصلیت جاننا چاہیے، اور پیروی سے گریز کرنا چاہیے، جو ہمارے پیارے نبی کے لئے قربانی نہ دے سکے اس کا بائیکاٹ کرو۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >