بے نظیر شاہ کے ”جلسی“ لفظ کو عورت کی توہین قرار دینے پر دلچسپ تبصرے اور میمز

گزشتہ روز شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جلسے کرنا اور بولنا ہمیں بھی آتا ہے، آپ سمجھتے ہیں تین جلسیوں سے ہم مرعوب ہو جائیں گے ہم جلسیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر معروف صحافی بے نظیر شاہ کی طرف سے دلچسپ ردعمل سامنے آیا۔ بے نظیر شاہ نے شاہ محمود قریشی کے لفظ "جلسی” کو عورتوں کی توہین قرار دیدیا اور کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی اپوزیشن کے احتجاج کو "جلسی” کہتے رہے۔کیا ہمارے اراکین پارلیمنٹ خواتین کی تضحیک کئے بغیر ایک بھی بات نہیں کرسکتے ہیں؟

بے نظیر شاہ کے لفظ "جلسی” کو عورت سے تشبیہہ دینے پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے دلچسپ ردعمل دیکھنے میں آیا۔

ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ بے نظیر شاہ کے اس بیان کا نوٹس لے لیا گیا ہے جس کے بعد اظہر مشوانی نے اپنا نام "مشوانی” سے "مشوانہ ” رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جس پر بے نظیر شاہ نے کہا کہ جلسی کوئی لفظ نہیں ہے۔ شاہ محمودقریشی ہی وضاحت کرسکتے ہیں کہ اس لفظ کا کیا مطلب ہے؟ واضح طور پر ، کسی بھی معمولی یا چھوٹی چیز کا موازنہ زنانہ صنف کے ساتھ کرنا بالکل عام اور قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔

بے نظیر شاہ کے اس تبصرے پر اظہر مشوانی نے ضیاء محی الدین کا ایک کلپ شئیر کیا کہ ایسے حالات میں تو ضیاء محی الدین صاحب جیسے اردو دان بھی اپنا سر پیٹ لیتے ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے بے نظیر شاہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب بیوی کو بیوہ تو کہنے سے رہا میں۔۔

حمید اعوان نے بے نظیر شاہ کو اردو سمجھاتے ہوئے لکھا کہ جلسی اسم تصغیر ہے نا کہ مونث اور عورت کی تشبیہ اور تحقیر بلکل بھی نہیں ۔ البتہ، مذکورہ، جلسے کو بیان کرنے کے لیے چھوٹا جلسہ بھی کہا جا سکتا ہے ۔ ہے تو چوروں کا اکٹھ، مکس اچار ، اس لیے ، اسکی اہمیت کوئی نہیں ۔

جہانزیب نے لکھا کہ کیا ہم ٹیکسی کو "ٹیکسا” کہیں؟

سلمان رضا نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہے ہمارا نام نہاد دانش ور طبقہ (المعروف جیالا فیک نیوز ایسوسی ایشن) جو سمجھتا ہے کہ کسی بھی لفظ کے ساتھ "ی” لگا دینے سے وہ چیز خواتین سے منسلک ہو جاتی ہے۔ اور پھر آزادیءاظہار رائے کے چیمپئینز نے اپنی ٹویٹس پر رپلائے آف کیے ہوتے ہیں کہ کوئی جواب ہی نہ دے پائے

راشد نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ مرغا انڈے دیتا ہے۔ ہم نے ہانڈا پکاکر روٹا کھایا، وہ ٹیکسا چلاکر محنت کرتا ہے، چھرا سے سبزی کاٹتے ہیں، درزا قینچا سے کپڑے کاٹتا ہے۔۔ میرے دوست کا شادا ہے

طاہر رانا نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ توبہ استغفراللہ ! کیسے کیسے لوگ دانشور اور "صحافا” بنے پھرتے ہیں

نور نے مذکر مونث کی تعریف سمجھاتے ہوئے لکھا کہ یہ گرامر کا قانون ہے کہ انسانوں میں مذکر مؤنث کو حقیقی مذکر، مونث کہتے ہیں جبکہ اشیاء میں بھی چیزیں مزکر مونث ہوتی ہیں انہیں گرامر کی زبان میں غیر حقیقی مذکر، مونث یا علامتی مذکر مونث کہتے ہیں مثلا سورج ،چاند ، گلاس مذکر کرسی ،چھری ، روٹی مونث کہلاتے ہیں

فرمان خان نے کہا کہ کراچی کا نام تبدیل کرکے کراچا رکھنا چاہیے۔

سوشل میڈیا صارفین کے مزید تبصروں کیلئے ایک سوشل میڈیا صارف کی بنائی گئی یہ ویڈیو دیکھئے

  • میرا جسم میری مرضی کا یہی رزلٹ ہے۔ یہ محترمہ نام نہاد تجزیہ کار ہیں۔ اللہ تیری قدرت۔ کل سے کوئی جلیبی اور قلفی کا نام بھی نہ لے کہیں فیمنزم والے برا نہ منا جائیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >