سخت سوالات پوچھنے پر اسحاق ڈار پاکستانی صحافیوں سے کیا سلوک کرتے رہے؟

پاکستان میں سخت سوالات پوچھنے پر اسحاق ڈار صحافیوں سے کیا سلوک کرتے رہے اور کیسے انہیں کمرے سے باہر نکالتے رہے؟ ویڈیو منظرعام پر

بی بی سی کو دیئے گئے اسحاق ڈار کے انٹرویو پر سوشل میڈیا پر خوب تبصرے جاری ہیں، ملک کے نامور اور سینیئر تجزیہ کار بھی پیچھے نہیں، بھرپور انداز میں اسحاق ڈار کے انٹرویو کی کلپس شیئر کرکے کلاس لے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارف ملیحہ ہاشمی نے اسحاق ڈار کے ایک پرانی میڈیا بریفنگ کی ویڈیو شیئر کردی، جس میں اسحاق ڈار رپورٹر پر برس رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ طریقہ نہیں ہے یار،آپ بات سنیں میں بریفنگ دے رہا ہوں یا آپ دے رہے ہیں؟ میں اور کس طرح بات کروں؟اس کو باہر نکالو اس کو ۔۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اس قدر غصے میں تھے کہ صحافی کو بدتمیز تک کہہ دیا

اسحاق ڈار کے پاکستانی صحافیوں کو بھرم دکھانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ملیحہ ہاشمی نے لکھا کہ پاکستان میں صحافیوں کو سوال کرنے پر دھکےمار کر نکال باہر کرنےوالے آج پہلی بار غیرجانبدار صحافی کےسامنے بیٹھے تو رو پڑے۔

اسحاق ڈار کے اس انٹرویو پر کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی سوالا ت اٹھائے اور پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی صحافی اسحاق ڈار سے ایسے سوالات نہیں کرسکتے جیسے برطانوی صحافی نے کیا ؟ کہیں انہیں یہ ڈر تو نہیں کہ اسحاق ڈار دھکے مار کر انہیں نکال دیں گے؟

سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہاں پر تو اسحاق ڈار اور نوازشریف فکسڈ اور پلانٹڈ انٹرویو دیکر بچ نکلتے تھے لیکن برطانیہ جس نے اسے پناہ دی وہاں کے صحافیوں نے ہی اسحاق ڈار سے ایسے سوالات پوچھے کہ انکے پسینے چھوٹ گئے۔

واضح رہے کہ اسحاق ڈار پر پاکستانی میڈیا کو انٹرویو دینے پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ وہ پاکستان کی عدالتوں سے مفرور ہیں اور عدالتوں کے بارباربلانے پر بھی وہ عدالتوں نے سامنے پیش نہیں رہے۔

  • جب تھوڑی میں زیادہ گھس جائے تو۔۔زادہ بد زات نسل سائیکلوں کے پنکچر لگانے کی اصل اوقات والا لعنتی خنزیری نسل ایسے ہی بھونکنے لگتی ہے اور کتوں کی طرح کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے اس بد زات نسل کے حرام خور فراڈئیے کا قصور نہیں اسکے غلیظ اور ناپاک گھٹیا خون ہے ہی ایسا

  • ان ۲ ٹکے کے صحافیوں کے ساتھ یہی سلوک بہتر ہے۔
    عمران خان نے ان صحافیوں کو عزت دے کر اتنا سر چڑھا لیا ہے کہ ۳ سال سے اس کی حکومت کو ناکام ہی قرار دی رہے ہیں۔

    جب نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی ٹُکڑوں پر پلو گے تو اوقات بھی نوکروں والی ہی ہوگی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >