پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی صحافیوں سے متعلق ٹویٹ پر عاصمہ شیرازی کا ردعمل

تحریک انصاف لاہور کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے حکومت کے داعی اور ناقد صحافیوں کی فہرست جاری کی گئی جس پر تبصرہ کیا گیا کہ ایک فہرست ایسے صحافیوں کی ہے جو کرپٹ لوگوں کے حوالے سے نکتہ نظر کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہیں۔

اس فہرست میں ملک کے نامور صحافیوں کے باقاعدہ نام لکھ کر ان پر تنقید کی گئی ان میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، نسیم زہرہ، نجم سیٹھی، طلعت حسین، منصور علی، غریدہ فاروقی، جاوید چودھری اور سلیم صافی کے نام شامل ہیں۔ ان تمام صحافیوں اور اینکر حضرات سے متعلق لکھا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کے کرپٹ لیڈر اور بدعنوان عناصر سے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان سے متعلق رائے عامہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ایسے صحافیوں کی فہرست بھی جاری کی گئی جو حکومتی پالیسیوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور بدعنوان عناصر کے خلاف کھل کر بولتے ہیں اس فہرست میں عمران ریاض خان، ملیحہ ہاشمی، صابر شاکر، کاشف عباسی، غلام حسین، سمیع ابراہیم، شفایوسفزئی، ڈاکٹر معید پیرزادہ، عبدالقادر اور وقار ملک کے نام لکھے گئے۔

ان ٹویٹس کے بعد کرپٹ عناصر کو سپورٹ کرنے والے صحافیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود عاصمہ شیرازی سیخ پا ہو گئیں اور ٹوئٹر پر محاذ سنبھال لیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے حکومت کے نکتہ نظر سے اختلاف رکھنے والے صحافیوں کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، عاصمہ شیرازی نے یہ بھی کہا کہ کیا تحریک انصاف کی حکومت کا تنقید کو سہنے کی بجائے اس طرح سے مہم جوئی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

ایک دوسرے خواتین صحافیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے پلیٹ فارم نے لکھا کہ اس طرح خواتین صحافیوں کے نام لے کر ان پر الزامات لگانے کی مذمت کی جاتی ہے جس کے جواب میں عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ صحافت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔

 

ایک اور ٹوئٹ میں عاصمہ شیرازی نے اسی ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت مانگی کہ بتایا جائے کہ یہ کیا ہے جس کے جواب میں معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے جوابی طور پر انہی کے پروگرام کا کلپ لگایا اور لکھا کہ وہ جواب دیں کہ وہ اپنے پروگرام میں کیا ثابت کرنا چاہ رہی تھیں۔

عاصمہ شیرازی نے سوال اٹھایا کہ کیا اسحاق ڈار کو پاکستانی چینلز پر دکھانے پر پابندی عائد نہیں کی گئی اگر ہاں تو پھر یہ چینل کیوں دکھا رہے ہیں۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اگر پیمرا نے ایک گھنٹے کے لیے پابندی اٹھائی ہے تو بتایا جائے کہ کیا یہ انٹرویو جوں کا توں نشر کیا جائے گا؟

  • Asma Shirazi…is like a media whore.
    She would go at any length depend on size of LIFAFA.
    Remember her service to Diesel Maulana during his Flop "Rent a Dharna” in Islamabad.
    She & Hamid Mir Jafar were the most active Journos in the campaign for Diesel even though Diesel is dead against of Women empowerment.
    She is defending National Thieves Nawaz & his Family.

  • جن صحافیوں کے نام پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر سپورٹ کی لسٹ جاری کی گئی ھے یہ لوگ صحافت کے نام کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ان کی بہت سی ویڈیوز میں تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید بھی کی جاتی ھے اور ھم تحریک انصاف والے اس کا خیر مقدم بھی کرتے ہیں کیونکہ جائز تنقید صحافت کا حسن ھے لیکن جو صحافیوں کا ٹولہ صرف اور صرف سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے ٹولے کو ہی سپورٹ کرتا ھے ان کے نام ظاہر کرنے میں اس کرپٹ صحافیوں کے ٹولے کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے
    کیونکہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں کی مسلسل سپورٹ حرام خور ٹولہ کی وجہ سے صحافت کو بدنام ہو رہا ھے اور عوام صحافت کی منی باجی کو بدنام نہیں کرنا چاہتی صفحات کو بدنام کرنے والی منیوں اور منوں کے نام سامنے آنے چاہئیں اس سے صحافت کو بدنام کرنے والے منے اور منیوں کو سبق سیکھنے میں مدد ملے گی
    اب اس بات میں کیا ھے سب کچھ صاف ظاہر ہوگیا ھے

  • سنا تھا کچھ گشتیوں کے اگواڑے پچھواڑے میں ہڈی اور راتب میں کمی سے مرچیںُ اور آ گ دو نوں لگتی ہیں آ ج کنفرمُ۔ ہوگیا کہ جو سنا تھا سچ تھا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >