اسحاق ڈار کے انٹرویو پر سوشل میڈیا تبصروں پر حامد میر ناخوش، وضاحتیں دینے لگے

اسحاق ڈار کے بی بی سی انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے پاکستانی صحافیوں سے متعلق ان تبصروں پر حامد میر سوشل میڈیا اور باالخصوص تحریک انصاف پر سخت برہم دکھائی دیتے ہیں۔ اسحاق ڈار کا انٹرویو نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث چل پڑی کہ کیا پاکستانی صحافی اسحاق ڈار یا شریف فیملی سے ایسے سوالات پوچھ سکتے ہیں جیسے اسٹیفن سیکر نے پوچھے؟

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستانی صحافیوں کی اکثریت شریف فیملی اور اسحاق ڈار سے مرعوب ہوجاتی ہے اور ان سے انکی مرضی کا انٹرویو کرتی ہے اور انکی مرضی کے سوالات پوچھتی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حامد میر، عاصمہ شیرازی ، منصور علی خان اور چند پاکستانی صحافیوں کے انٹرویوز سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے شریف خاندان کے افراد انہیں انٹرویو نہیں دے رہے بلکہ شریف فیملی انٹرویو لے رہی ہے اور شریف فیملی انٹرویو ایسے دیتی ہے جیسے پریس کانفرنس کررہی ہو اور کھل کر جو بات کرنا چاہیں کرتے ہیں اور اینکر کی ہمت نہیں ہوتی کہ انہیں روکے۔

سوشل میڈیا صارفین کے ان تبصروں اور اسحاق ڈار کا انٹرویو نشر کرنے پر نہ صرف عاصمہ شیرازی، منصور علی خان اور دیگر برہم دکھائی دیتے ہیں بلکہ حامد میر بھی ناخوش ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ میں بھی اسحاق ڈار سے سوالات کرنا چاہتا ہوں لیکن نہیں کر سکتا کیونکہ میں پاکستانی ہوں پاکستانی چینل پر کام کرتا ہوں پاکستان میں اسحاق ڈار سے انٹرویو کرنا ممنوع ہے یہ کون سا پاکستان ہے جس میں پاکستانی چینل بی بی سی پر اسحاق ڈار کا انٹرویو چلا سکتے ہیں خود انکاانٹرویو نہیں کر سکتے

اس ٹویٹ کے بعد حامد میر پر جانبداری کا الزام لگا اور سوشل میڈیا صارفین نے یہ کہا کہ آپ تو پلانٹڈ انٹرویو کرتے ہیں، آپکے پروگرام میں شریک ہونیوالا شریف فیملی کا فرد بولتا ہے اور آپ خاموش رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے حامد میر کو جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپ سخت سوالات نہیں کرتے، اگر کرتے بھی ہیں تو خود ہی صفائیاں دیکر مہمان کو بچالیتے ہیں۔

جس پر حامد میر نے اسحاق ڈار کے ساتھ اپنے انٹرویو کے کچھ کلپس بھی شئیر کئے اور کہا کہ جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے تو ان سے ویسے ہی سوالات پوچھے جاتے تھے جیسے بی بی سی پر پوچھے گئے لیکن ڈار صاحب جواب دینے کی بجائے کہتے تھے آپ عمران خان کے دوست ہیں آج کل موجودہ حکومت کے کچھ ملازم ہمیں عمران خان کا دشمن قرار دیتے ہیں ہم کل بھی سوال پوچھتے تھے آج بھی سوال پوچھتے ہیں

اسحاق ڈار کا ایک اور کلپ شئیرکرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں بھی اسحاق ڈار سے سخت سوالات کئے جاتے تھے وہ ناراض بھی ہوتے تھے عمران خان کی حکومت میں سخت سوالات کئے جائیں تو انکے ساتھی بھی ناراض ہوتے ہیں برطانیہ میں سوال پوچھناآسان ہے پاکستان میں بہت مشکل لیکن ہم یہ کام کرتے رہیں گے ہمیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں

حامد میر کے ان ٹویٹس کے جواب میں سوشل میڈیا صارفین نے بھی اسحاق ڈار کے انٹرویو کے کچھ کلپس شئیر کئے اور کہا کہ حامد میر یہ کلپ بھی شئیر کریں جس میں اسحاق ڈار لائیو شو میں بدزبانی کررہے ہیں اور عمران خان پر ذاتی حملے کررہے ہیں لیکن حامد میر بجائے روکنے کے چپ بیٹھے ہیں

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ حامد میر کو دوبارہ انٹرویو کا موقع بھی مل جائے تو وہ بی بی سی کے ہارڈ ٹاک کی طرح کبھی سخت انٹرویو نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی سخت سوالات پوچھ سکیں گے ۔۔ کیا حامد میر یہ پوچھ سکیں گے کہ آپ پاکستان کے دو بار وزیر خزانہ رہے ہیں، آپ پاکستان کیوں نہیں آرہے؟ تین بار وزیراعظم بننے والے نوازشریف پاکستان کیوں نہیں آرہے اور لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف کیوں بول رہے ہیں؟

  • فوج کے خلاف بھونکنے والو را کا پالتو کتا حامد میر جعفر پاکستان کی فوج کے خلاف بھونکنے والوں سے سوال نہیں کرتا انکی حوصلہ افزائی کرکے انکو اپنی ماں کا خصم بناتا ہے

  • Hamid Mir Jafar is upset because probably for the first time he understood how the people of pakistan value his programme Capital Talk.
    Caption in social media… "Hard Talks” not "Capital Talk”…explains everything as how a LIFAFA anchor can not ask questions which were not scripted in advance.
    In other words lifafa Journalists like Hamid Mir Jafar can ask questions which only would benefit their political Masters.

  • اس میر صادق میر جعفر میر حامد میر ٹائپ لوگوں کی بوتھی کبھی خوش نہیں ہوگی جب ان کے کرپٹ آقاؤں کی حقیقت عوام کے سامنے آنے پر خوش نہیں ہونگی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >