ڈاکٹرشہبازگل نے کس سینئر صحافی کو ن لیگ کا ترجمان قراردیا؟

کیسی صحافت ہے؟شہبازگل کا اشارہ کس صحافی کی جانب ہے جس سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ن لیگ کا ترجمان بنا ہوا تھا؟

براڈ شیٹ معاملے پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں نہال ہاشمی اور تجزیہ کار سلیم بخاری سمیت دیگر مہمان کا پینل بٹھایا گیا، جس پر سب نے اپنی رائے دی، سلیم بخاری نے ماضی کی حکومتوں، پی ٹی آئی حکومت کے احتساب کی بات کی، ساتھ ہی وہ نواز شریف کے حق میں بھی بات کرتے ہوئے نظرآئے، جس پر معاون خصوصی شہباز گل نے جوابی ٹویٹ داغ دیا۔

معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ آج سما ٹی وی پر ایک سنئیر صحافی مسلم لیگ ن کے کے ترجمان بنے ہوئے تھے،ان کے اپنے بندے سے دفاع نہیں ہو رہا تھا لیکن سینئیر صحافی صاحب نے دو قدم آگے ہو کر دفاع کیا، ایسی اداؤں پر آپکو کیا کہیں ؟ یہ صحافت تو کسی صورت نہیں۔

یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ شہباز گل کا اشارہ کس جانب تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ اشارہ اینکر احتشام امیرالدین اور سلیم بخاری کی جانب ہے۔

تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا تھا کہ براڈ شیٹ کے معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نواز شریف کی کرپشن ثابت کی جاتی، لیکن پتا چلا کے اپنے ایک بندے کی گردن پھنس گئی ہے، جس کا نام شہزاد اکبر ہے، شہزاد اکبر گلا پھاڑ پھاڑکر تین گھنٹے تک پریس کانفرنسز کرکے ہمیں سمجھاتے تھے کہ احتساب کیا ہوتا ہے،لیکن اپنا جواب دینے کیلئے وہ تیار نہیں ہیں، جب تک یہ رویئے رہیں گے کہ اپنے سوال کا آٌپ جواب نہ دیں۔

تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کا نعرہ کیا تھا کہ موجودہ وزیراعظم کا سب سے پہلے احتساب ہونا چاہئے، اس کی کابینہ کا سب سے پہلے ہونا چاہئے،یہ نعرہ تھا نہ حکومت میں آنے سے پہلے، کیا ہوگیا اب؟ کہ سیاسی جماعتوں کا کرینگے ہمارے والوں کا احتساب چھوڑ دیں،کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہےم ماضی میں جس میں غلط کیا ان کا تو احتساب ہونا چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ سیٹنگ پرائم منسٹر کو کھلی چھوٹ مل جائے، اپنے نعروں پر قائم رہیں، اور بتائیں یہ ہو کیا رہا ہے اس کا جواب دیں، تب بات بنے گی۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق شہباز گل کا اشارہ احتشام امیرالدین کی جانب ہے جو براڈشیٹ معاملے، پی آئی اے طیارے کی ملائیشیا میں ضبطگی اور دیگر معاملات پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ براڈشیٹ اور طیارہ لیز پر لیا جانا پچھلی حکومتوں کا ہے لیکن اس اینکر نے ملبہ موجودہ حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔سوشل میڈیا صارفین نے اسے صحافتی بددیانتی سے تعبیر کیا۔

واضح رہے کہ براڈ شیٹ کے سربراہ نے شہزاد اکبر سے متعلق انکشافات کئے تھے، نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب سے جنوب مشرقی ایشیا کے کسی بینک میں رقم ٹرانسفر ہوئی تو حکومت پاکستان کو الرٹ کیا تھا، ملاقات کے دوران شہزاد اکبر نے معاملے میں بالکل دلچسپی نہ لی، انہیں صرف ڈسکاوَنٹ حاصل کرنے میں دلچسپی تھی۔

کاوے موسوی نے کہا تھا کہ شہزاد اکبر نے بےوقوفانہ بیان دیا کہ مجھے عدالتی فیصلے کے مطابق جو رقم دی گئی وہ ٹیکس پیئر کا پیسہ تھا،عدالتی حکم پر مجھے جو رقم دی گئی وہ چوروں سے وصول کیے گئے پیسے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ بہت سی کرپٹ حکومتوں کا سامنا کیا، امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوا،میکسیکو میں کرپشن کو بھی بےنقاب کیا،براڈ شیٹ نے کہا کہ مشرف دورمیں ہم واحد کمپنی تھے جنہوں نے مفت کام کی آفر کی، ہمارے مقابلے میں دیگر کمپنیوں نے ماہانہ پیمنٹ کی ڈیمانڈ کی تھی، پرویزمشرف کو کہا کہ اگر ہم کامیاب ہوتے ہیں تو اپنا پرسنٹیج لیں گے۔

موسوی نے کہا تھا کہ الزامات لگائے جا رہے ہیں اور معاہدے کو توڑمروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، میں آصف زرداری کا نام تک نہیں جانتا تھا، نوازشریف کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا، مجھے صرف یہ پتہ تھا کہ آصف زرداری بینظیر بھٹو کے شوہر ہیں،یہ جھوٹ ہے کہ میں نے نیب کے نمائندوں کو مشورہ دیا کہ اربوں ڈالرز ڈھونڈ سکتے ہیں، یہ ضرور کہا کہ اربوں ڈالر چوری ہوئے ہیں اور ہم اس کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

  • یہ صحافت کی طوائفیں ہیں ان کو صحافی کون سمجھتا ھے پاکستان کا حرام خور میڈیا اور حرام خور صحافیوں کا ٹولہ پاکستان کا نمبر 1 طوائفوں کا کوٹھا ھے جہاں روزانہ ہر قسم کی طوائفیں آ کر اپنا اپنا قلم اور ضمیر اور ایمان بیچ کر جاتی ہیں

  • احتشام غلیظ الدین اور مثلی کالیا سلیمُ ایڈز کی بیماری جسکا راتب اور ہڈی کھائیں گے اسی کے گنُ گائیں کر اس ہڈی اور راتب ڈالنے والے کے مخالفوں پر ہی بھونکیں گے یہ ایک فطری بات ہے

  • I just can’t understand how journalist Saleem is a ‘Bokhari’ and how politician Nehal is a ‘Hashmi’. They are someone else (I don’t want to name their original cast) who have changed their casts to become Bokhari and Hashmi.

  • PTI has been a great critic when it was in opposition.
    Now their leaders should learn to take criticism and defend with reasoning instead of labeling people paid Journalists.

    Even if these journalists are doing propaganda, it can easily be nullified by a good reasoning and counter arguments. It requires debating skills. If you don’t know how to debate, don’t go in TV talk shows.

    The key is always send subject matter expert based on the topic of the show and if it’s not your subject, say it clearly that “I can’t comment on this subject as it’s not my domain”

    The problem occurs when you have 1 or 2 people who are blindly defending anything and everything.

  • بعض لوگوں کی حرام زدگی کی لعنت انکے چہرے پر آ جاتی ہے اسی طرح سلیم ایڈز کی بیماری کالیا اور کالا۔ سور اپنے کرتوتوں کی لعنت اپنے کالے بچ صورت لعنتی اور کالے سور والے بوتھے پر لے کر پھرتا ہے کنجر مثلی اور میراثی اسکے کرتوت اور شکل اور ناپاک غلیظ خون بھی نہال میراثی کنجر اور مثلی کی اور زبیر کالے سور اور مثلی اور میراثی کی طرح ہی ہیںُ وہ کالیا نہال بھی افریقی بازار حسن کی باندری کی اولاد پاکستانیوں کے بچوں پر زمین تنگ کرنے کی کنجر بھبھکیاں بھونکتا تھا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >