اقرار الحسن نے پاک،بھارت پر کیا ٹویٹس کیےجس پر ان سے معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟

نجی ٹی وی چینل سے منسلک اینکر پرسن اور صحافی اقرار الحسن نے 2 روز پہلے ٹوئٹر پر ایک سلسلہ شروع کیا جس میں وہ بھارت کا پاکستان سے موازنہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان بمقابلہ بھارت اس میں انہوں نے تصاویر شیئر کیں جس میں کراچی کی ایک لوکل بس کو جبکہ دوسری جانب موازنے کے طور پر بھارت کی ایک ٹرین کی تصاویر شیئر کیں۔

اس کے بعد گزشتہ روز بھی انہوں نے کورونا ویکسین سے متعلق ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے دوبارہ پاکستان کا موازنہ بھارت سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم نے ابھی کورونا کے لیے آرڈر دیا ہے کہ نہیں جبکہ بھارت ویکسین تیار کر رہا ہے۔ حالانکہ ہمارا بھارت سے تعلیم، سائنس، کھیل، انفرااسٹرکچر ،ٹیکنالوجی اور اکانومی میں مقابلہ ہونا چاہیے۔

اس ٹوئٹ میں بھی انہوں نے ایک بھارتی امیتابھ کانت کے ٹوئٹ کا حوالہ دیا جس کا کہنا تھا کہ بھارت کورونا وائرس کے لیے ویکسین بنا رہا ہے جن کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

اس کے بعد انہوں نےپاکستانی کرنسی کا بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا پاسپورٹ افغانستان اور صومالیہ کے درجے پر ہے، روپیہ بنگلہ دیشی “ٹکے” کے مقابلے ایک روپے نوے پیسے اور بھارتی روپیہ2 روپے 20 پیسے ہے، ہم محنت کرنے، مقابلہ کرنے کی بجائے خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں۔ اللہ ہمیں پاکستان کو صحیح معنوں میں “زندہ باد” بنانے کی توفیق دے۔

ان کے ان ٹوئٹس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہو گئی جس میں اقرار الحسن کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جانے لگا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کو معافی مانگنی چاہیے۔ زینب نامی صارف نے کہا کہ ممبئی کی زندگی اس طرح کی ہے لہٰذا اقرار الحسن قوم سے معافی مانگیں۔

عبدالسلام یوسفزئی نے کہا کہ شرم آنی چاہیے کہ وہ پاکستان کی مخالفت میں اتنا آگے نکل گئے

چودھری حسنین گورائیہ نے کہا کہ بھارت میں 30 ملین لوگ فٹ پاتھ پر سوتے ہیں جبکہ بھارت میں لوگوں کو پناہ گاہ میں کھانا کھاتے اور رہتے دکھایا گیا ہے۔

عمران راجپوت نے ایک بھارتی خاتون صحافی کی ویڈیو شیئر کی جو اپنی حکومت پر تنقید کر رہی ہیں اس صارف نے کہا کہ ایسی ویڈیوز اقرار الحسن جیسے لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو یہ سوچتے ہیں بھارت پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ ملک سے محبت کریں اقرار الحسن کیونکہ آپ بھی ہمارے ہیرو ہیں مگر اس بات آپ نے تکلیف پہنچائی ہے۔

علی سیف خان نے بابری مسجد اور کرتارپور راہداری کی تصاویر شیئر کر کے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا انہیں بھارت چلے جانا چاہیے۔

ایک صارف نے کہا کہ حکومت پر تنقید جائز ہے ہرایک کوحق حاصل ہے لیکن بات ملک پر آئےگی تو پھر کوئی معافی نہیں دنیا بھر کی مثالیں چھوڑ کرانڈیا کو مثال بناؤ گے تو خود مثال بن جاؤ گے۔

طاہر لطیف نے بھی خوب تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم لوگوں نے اقرار الحسن جیسے لوگوں کو کیوں ہیرو کا درجہ دیا ہے۔

مجاہد نے کہا کہ اقرار الحسن بطور اینکر صوبائی اور وفاقی حکومت کا موازنہ کر سکتے تھے مگر انہوں نے بھارت کا پاکستان کے ساتھ مقابلہ کر کے اچھا نہیں کیا ان کو معافی مانگنی چاہیے۔

ایک طرف تو تنقید کرنے والے لوگ ہیں جب کہ دوسری جانب پاکستانی فنکاروں اور کھلاڑیوں نے اقرا الحسن کےحق میں آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ معروف پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ کسی پر الزام تراشی کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کہا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقرار الحسن کی ملک کے لیے حب الوطنی، پیار اور خلوص پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔

انہوں نے اقرار الحسن کے حق میں کہا کہ وہ اس بات پر ان کے ساتھ ہیں۔

مشہور بلے بازکامران اکمل نے کہا کہ ایک ٹوئٹ کی وجہ سے اقرارالحسن کی حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کیونکہ یہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک کی عوام کے لیے بھی ویسا ہی ذرائع آمدورفت کا نظام چاہتے ہیں۔

مشہور گلوکار علی ظفر نے کہا کہ اپنے ملک کی خاطر اپنی جان کو ان گنت بار جوکھوں میں ڈالنے والے کو ایک تصویر کی بنیاد پر کس طرح کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ اس کی خواہش ہے کہ پاکستانی عوام کے لیے بھی اسی طرح کا نظام ہو۔

گلوکار نے کہا کہ ہمیں خیال کرنا چاہیے کسی کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے۔

صحافی احتشام الحق نے کہا کہ وہ اقرار الحسن کے ساتھ ہیں۔

  • This looks like an attempt to stay in the lime light. Picking the worst from one country and compare it with the best from another is a very ordinary work by such a rock start anchor person. I give him benefit of doubt that he did that in good intention. There is always good to learn from people’s mistake. We need to do better and we all know that.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >