واٹس ایپ کے آفیشل اسٹیٹس، صارفین تذبذب کا شکار،ایک بار پھر دلچسپ میمز کی بہار

آج 28 جنوری کی صبح واٹس ایپ صارفین کو اپنے موبائل پر واٹس ایپ کا آفیشل اسٹیٹس نظر آیا جو کہ ایک نئی چیز تھی کیونکہ عموماً آپ کے واٹس ایپ اسٹیٹس میں صرف وہی لوگ نظر آتے ہیں جن کا نمبر آپ کے پاس یا جن کے پاس آپ کا نمبر محفوظ ہو اور ان سے آپ کی بات چیت ہوتی ہو۔

واٹس ایپ آفیشل کے اس اسٹیٹس میں بتایا گیا ہے کہ اب انتظامیہ کی جانب سے ایپ سے متعلق کیے گئے اہم فیصلوں سے صارفین کو اسٹیس کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ انتظامیہ صارفین کے پیغامات کو نہ ہی پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کے اینڈ ٹو اینڈ اینکرپشن کے باعث اس تک کسی کی رسائی ممکن ہے۔

اس نئی اپڈیٹ کی وجہ سے صارفین نے سوشل میڈیا کا رخ کیا اور واٹس ایپ ایک بار پھر ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور لوگ مزاحیہ میمز شیئر کرتے ہوئے نظر آئے۔

ثمین آصف نامی صارف نے کہا کہ بھروسہ شیشے کی طرح ہے جو ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ جوڑا نہیں جا سکتا۔

شیخ عباد نے کہا کہ ان کی صبح یہ دیکھ کر ہوئی ہے۔

اسامہ چودھری نے کہا کہ واٹس ایپ کی اسٹیٹس دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ اچھا مذاق ہے۔

عثمان وارث نے کہا کہ ان کے پاس مارک زکر برگ کا نمبر موجود ہے۔

رمشا الماس نے کہا کہ سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ واٹس ایپ انتظامیہ نے بھی یوٹرن لے لیا ہے۔

سیدہ ترمذی نے کہا کہ واٹس کا موقف ہے کہ وہ پرائیویسی کے باعث ہمارے میسج نہیں پڑھ سکتا مگر اس کا نمبر اپنے پاس محفوظ کیے بغیر وہ اپنا اسٹیٹس ہمیں دکھا سکتا ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ واٹس ایپ کا سٹیٹس دیکھنے کے بعد انہیں یہ خیال آیا ہے کہ آج تو بڑے بڑے لوگ واٹس ایپ پر اسٹیٹس لگا رہے ہیں۔

آمنہ نے لکھا کہ ان کے پاس واٹس ایپ کے مالک کا نمبر ہے تو بہتر ہوگا اب ان سے تمیز سے بات کی جائے۔

یاد رہے کہ واٹس ایپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ فروری 2021 سے وہ اپنی پرائیویسی پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں جس کے تحت صارفین کے ڈیٹا پر کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا۔ کمپنی نے کہا تھا کہ وہ واٹس ایپ صارفین کی چیٹس کو اسٹور اور مینج کرنے کے لیے فیس بک کی سروسز استعمال کرے گی۔

واٹس ایپ کی مذکورہ وضاحت کے بعد اس پر تنقید کی گئی اور اس پر الزام لگایا گیا کہ وہ صارفین کی ذاتی معلومات کو فیس بک کے ساتھ شیئر کرے گا۔ تاہم بعد ازاں واٹس ایپ انتظامیہ نے وضاحت کی تھی کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو نہ تو فروخت کریں گے اور نہ ہی اس تک ان کی رسائی ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>