خلیل الرحمان قمر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث کیوں بنے ہوئے ہیں؟

خلیل الرحمان قمر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث کیوں بنے ہوئے ہیں؟

مشہور مصنف و ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اپنے سخت موقف کی وجہ سے اکثر تنقید کی زد میں آجاتے ہیں، حسب روایت وہ ایک بار پھر سوشل میڈیا کی تنقید کا شکار ہوگئے ہیں۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلیل الرحمان قمر ایک بار پھر ایک ٹی وی ٹاک شو میں اپنے سخت لہجے اور بے لچک موقف کی وجہ سے سوشل میڈیا کی تنقید کی زد میں ہیں، اس بار انہوں نے ایک خاتون سماجی رہنما کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی اور ہوسٹ کی جانب سے احترام سے بات کرنے کی تاکید پر پروگرام چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی پر 4 شادیوں اور شادی کے درمیان ہونے والی تقریبات کے موضوع پر پروگرام منعقد کیا گیا جس میں خلیل الرحمان قمر اور سماجی رہنما ایلیا زہرہ کے درمیان شدید قسم کی بحث چھڑ گئی ۔

دونوں کے درمیان جب تکرار نے زور پکڑا تو پروگرام کے میزبان نے خلیل الرحمان قمر کو احترام سے گفتگو کرنے کی تاکید کی جس پر وہ برا مان گئے اورشو کے درمیان سے اٹھ کر چلے گئے۔

خلیل الرحمان قمر کو جانے سے روکنے کیلئے پروگرام کی پروڈکشن ٹیم نے کوشش بھی کی مگروہ راضی نہیں ہوئےاور چینل سے روانہ ہوگئے۔

پروگرام میں شریک سماجی رہنما ایلیا زہرہ نے واقعے سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں خلیل الرحمان قمر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے مجھے را کا ایجنٹ قرار دیدیا ، میرےخلاف غیر اخلاقی لفظوں کا استعمال کیا اور مجھ پر بے تحاشا چیختے ہوئے وہ شو چھوڑ کر چلے گئے۔

خاتون سماجی رہنما کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین ایک بار پھر خلیل الرحمان قمر پر شدید تنقید کرنا شروع ہوگئے ہیں، صارفین کا کہنا تھا کہ خلیل الرحما ن قمر کو ادب آداب اور احترام سیکھنا چاہیے۔

 ؎

  • I do agree that he is rude but one plus goes to him that he did not interfere while other gusts are commenting . The the ladies should not interfere him …let him talk ….agree or dis agree you have the right .If you will screw up a person with this attitude obviously he will react in this way.

  • He should sit at home … just makes an ass of himself. Bad representation for men gender in lol ….. but I think he is allowed on tv to teach young men how not to think and not be like !!!!!!

  • عورتوں کے حقوق ایک طرف لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری ٹاک شوز میں آنے والی عورتیں بدتمیز اور اجڈ ہیں۔ جو بھی دوسرا کوئی بات کرنے لگتا ہے اس کے درمیان چر چر کرتی رہتی ہیں۔ اور یہ صرف کسی ایک عورت کا مسئلہ نہی بلکہ ان سب کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ ہماری عورتوں کو یہ عادت ہے کہ بولتے ہی رہنا ہے۔ خلیل الزماں میں بھی خرابی ہے کہ اس میں قوت برداشت بلکل نہی ہے، لیکن اس دفعہ اس نے عایلیہ زہرا سے کہا کہ محترمہ آپ کے بولتے ہوئے میں نے مداخلت نہی کی اس لیے میرے بولتے ہوئے مداخلت نہ کریں۔ لیکن وہ عورت تو ٹر ٹر بولے کی چلی جارہی تھی حالنکہ بات خلیل الزمان کر رہا تھا۔ بلآخر خلیل عایلیہ کے نہ رکنے پر خلیل اٹھ کر چلا گیا۔ میں نے وہ پراگرام دیکھا ہے اور میرے خیال میں عورتوں کو مباحثہ بارے تہذیب سیکھنی چاہیئے۔ اس بارے انہیں ملیکہ بخاری سے لیسنز لینے چاہئیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >