الیکشن کمیشن کا ایک فیصلہ فکس میچ اور دوسرا فیصلہ خوش آئند قرار

ن لیگ کا دہرا معیار، پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنا فکس میچ جبکہ این اے 75 کا فیصلہ خوش آئند

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں پر مسلم لیگ ن کا دہرا معیار سامنے آگیا ہے، ایک طرف مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز الیکشن کمیشن کے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو فکسڈ میچ قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف این اے 75 کے ضمنی انتخابات کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔

گزشتہ ایک روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے سینیٹ الیکشن کے لیے ریٹرننگ افسر کی جانب سے پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف پرویز رشید کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے پرویز رشید کو سینٹ الیکشن کےلیے نااہل قرار دیا تھا۔

https://twitter.com/tariqmateen/status/1364910804873580545/photo/1

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کی جانب سے پرویز رشید کو سینٹ الیکشن کےلیے نااہل قرار دینے کے فیصلے پر مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ "لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ حکومت کی جانب سے فکسڈ میچ ہے”

دوسری جانب مریم نواز نے این اے 75 کے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "الیکشن کمیشن کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن ری پولنگ سے بڑے سوالات بھی باقی ہیں کہ یہ سازش کہا تیار ہوئی؟

مریم نواز نے الیکشن کمیشن کے جمعرات مورخہ 26 فروری کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ "چیف سیکرٹری، آئی جی، کمشنر اور دیگر سرکاری اہلکار کس کا حکم سن رہے تھے؟ منصفانہ انتخابات کے لیے ان سب کو کٹہرے میں لانا اور سازش کی کڑیاں کھولنا لازمی ہے”

ن امریکی نائب صدر مریم نواز کا اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہنا ہے کہ "‏ریاستی جبر، وزراء کے دھونس اور دھمکی کے آگے ثابت قدمی سے کھڑے رہ کر یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے لئے کتنا مشکل تھا۔الیکشن کمیشن نے اس فیصلے سے عوام میں ساکھ اور عزت میں اضافہ کیا ہے۔ مگر ضروری ہے کہ ان چہروں کو بےنقاب کیا جائے اور سزا دی جائے جو عوام کی امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے”


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>