ووٹ ضائع ہونے کے الزام پر زرتاج گل کا ردعمل

زرتاج گل کی میڈیا پر سینیٹ کا ووٹ ضائع ہونے سے متعلق خبروں کی تردید

وفاقی وزیر برائے موسمیات تبدیلی زرتاج گل کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان تمام خبروں کی تردید کی گئی ہے، جن میں کہا جا رہا تھا کہ گزشتہ روز ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں زرتاج گل اور وزیراعظم عمران خان دونوں کا ووٹ ضائع ہوا ہے۔

وفاقی وزیر کا مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہنا ہے کہ "‏میڈیا پر چلنے والی مضحکہ خیز افواہوں کی سختی سے تردید کرتی ہوں۔ نہ وزیراعظم نے اپنا ووٹ ضائع کیا، نہ ہی میں نے! ہم نے پوری تیاری کی تھی اور لوازمات سے پوری طرح واقف ہیں۔ اپوزیشن کے جھوٹ محض گمراہ کرنے کے لئے ہیں۔ یہ ایک قابل افسوس امر ہے، ان میں کوئی صداقت نہیں”

زرتاج گل کا ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں مزید کہنا تھا کہ "‏رانا ثناء اور نوید قمر نے وزیراعظم اور میرے پر ووٹ ضائع کرنے کے من گھڑت الزامات لگائے ہیں۔ میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ووٹوں کی جانچ پڑتال کریں، اور جھوٹ پر مبنی الزامات لگانے پر رانا ثناء اور نوید قمر کے خلاف ووٹ کے استحقاق کو مجروح کرنے کی سزا دی جائے”

خیال رہے کہ گزشتہ روز کے سینٹ انتخابات کے نتائج کے بعد سے میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے امیدوار حفیظ شیخ کو ڈالاگیا زرتاج گل اور وزیراعظم عمران خان کا ووٹ ضائع ہوگیا ہے کیونکہ دونوں نے اپنے بیلٹ پیپر پر اوور رائٹنگ کی ہوئی تھی۔

  • خبریں تو یہ چل رہی ہیں کہ مسترد ہونے والے ووٹوں میں سے غالبا چار ایسے تھے جہاں نمبروں کی بجائے ٹک کیا گیا تھا ۔ اور نوید قمر نے گنتی سے پہلے ہی عمران خان اور زڑتاج گل کے ووٹوں کے متعلق یہی دعوی کیا تھا کہ ان کے ووٹ اسی بنیاد پر غلط تھے ۔ سوال یہ بنتا ہے کہ اگر انہوں نے ٹک کا نشان نہیں لگایا تھا اور درست طریقے سے ووٹ ڈالا تھا تو نوید قمر کو گنتی سے پہلے ہی کیسے پتا چل گیا کہ کاسٹ ہونے والے ووٹوں میں کم از کم دو ایسے ووٹ شامل ہیں۔

  • الیکشن کمیشن کچھ بھی کر کے کچھ بھی نمبر بنا دے کیسی کو کیا پتہ چلنا ھے ایسی لیئے تو عوام کہتی ھے ہر ووٹ کے نشان کو ڈبے میں ڈالنے سے پہلے اسکرین پر براہ راست دیکھایا جانے کہ کس نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ھے اور یہ ہی رول ہر الیکشن میں ہونا چاہیے خواہ وہ بلدیاتی ہو،صوبائی ہو قومی اسمبلی ہو سینٹ ہو اسپیکر ہو وزیراعظم کا ووٹ ہو صدر کا ووٹ ہو ہر ووٹ کو کھلا ہونا چاہیے اور یہ ہی جمہوریت کا حسن ھے سیکرٹ ووٹنگ سسٹم جمہوریت کا جنازہ ھے

    • تم لوگوں کی عجیب منطق ہے ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے سینیٹ کے چیرمین پر عدم اعتماد کی قرار داد کے بعد پی ٹی آئ نے پی پی پی اور زرداری کے ساتھ ملکر مکروہ کھیل کھیلا جس میں مسلم لیگ نون کے سینیٹرز کو خریدا گیا اور پی ٹی آئ نے اپنا ووٹ وائس چیرمین سینیٹ کے لیے پی پی پی کے امیدوار کو دیا اور مسلم لیگ کا امیدوار ھار گیا ۔ تم پوٹیز کی اخلاقی گراوٹ تو اسی وقت عیاں تھیں ، اور کل جس طرح فیصل واوڈا نے قومی اسمبلی میں سینٹ کی سیٹ کے لیے اپنا ووٹ بھگتانے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفا دیا وہ نہ صرف مجرمانہ ، منافقانہ تھا بلکہ انتہائ شرمناک تھا ۔ عمران اب کس منہ سے اپنے آپ کو اخلاق کا چیمپین سمجھتا ہے ۔ یہ تو بے شرمی کا انتہائ نچلا درجہ ہے ۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >