عمران خان کے قابل اعتماد ساتھی کا ووٹ مسترد ہونے پر سوشل میڈیا کے رنگا رنگ تبصرے

 

پاکستانی سیاست میں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا تنازع سر اُٹھاتا ہے اور سوشل میڈیا اسے اٹھا لیتا ہے۔ کوئی صارف اختلاف کر رہا ہے، کسی نے تنقید شروع کر دی، ایک طرف مزاح تو دوسری طرف طنز کی نشتر۔۔ گویا ایک طوفان برپا ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی بولیاں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ سینیٹ انتخابات کے بعد بھی دیکھنے کو ملا جس میں اسلام آباد کی جنرل سیٹ پر پیپلزپارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکمران جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ کو ہرا کر بڑا اپ سیٹ کر دیا۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق 340 کے ایوان میں یوسف رضا گیلانی کو 169 جبکہ حفیظ شیح کو 164 ووٹ ملے۔

اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ سات ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا تھا جن میں سے ایک تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی کا تھا، جسے انہوں نے انتخابی عمل کے دوران ہی تسلیم کر لیا تھا۔

ووٹوں کے مسترد ہونے سے پہے ہی ’ووٹ ضائع‘ کرنے کی تراکیب بتاتی علی گیلانی کی ویڈیو تمام ٹی وی سکرینز پر چل رہی تھی۔ اس کی وجہ سے افواہوں کا ایک بازار گرم ہو گیا۔

پولنگ کے دوران حکمراں جماعت کے ایم این اے شہریار آفریدی کی جانب سے الیکشن کمیشن سے درخواست کی گئی کہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ اپنی جماعت کی جانب سے الیکشن کی تیاری میں حصہ نہیں لے سکے اور ووٹ پر نمبر لکھنے کی بجائے دستخط کر آئے ہیں اس لیے انھیں دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کا عملہ ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ میڈیا میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے ان کی سرزنش کی ہے مگر شہریار آفریدی نے اس کی تردید کر دی۔

آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ آج پولنگ کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی ایک بیلٹ پیپر پر غلط ووٹ دینے کے بعد نیا بیلٹ پیپر مانگ لیا تھا۔

تاہم انھوں نے ایسا ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے کیا اور یہ استدعا کی کہ چونکہ بیماری کے باعث ان کے ہاتھ کانپتے ہیں اس لیے انھیں دوبارہ ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔ جس کے بعد ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی۔

یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے درمیان صرف پانچ ووٹوں کا فرق ہے لیکن مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد سات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ضائع ہونے والے ووٹوں کے متعلق بہت گفتگو ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین اس الیکشن میں دیگر چھ ووٹوں کے مسترد ہونے کو گذشتہ روز علی گیلانی کی ویڈیو سے جوڑ رہے ہیں اور اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ کئی افراد نے شہریار آفریدی پر بھی غصہ نکالا ہے۔ تاہم ایک بڑی تعداد نے ان کی حمایت بھی کی ہے اور اسے انسانی غلطی قرار دیا ہے۔

صحافی عدیل راجہ نے سوال اٹھایا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ شہریار آفریدی کو یہ معلوم نہ ہو کہ ووٹ کیسے کاسٹ کرنا ہے۔ یہ تو ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔‘

صحافی مہر تارڑ نے شہریار آفریدی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’بے چارے شہریار آفریدی، غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے لیکن سینیٹ کے ووٹ بہت کم ہیں اس لیے ہر غلطی بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ شہریار آفریدی کی یہ غلطی خاصی مایوس کن ہے کیونکہ یہ صورتحال ہی بہت سنگین تھی۔‘

اسی طرح ایک اور صارف نے شہریار آفریدی کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا کیونکہ اگر وہ خود نہ بتاتے تو کسی کو علم نہ ہوتا۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ شہریار آفریدی نے جان اللہ کو دینی ہے اور ووٹ کسی کو بھی نہیں جبکہ ایک اور صارف نے طنزاً کہا کہ علی گیلانی نے ووٹ ضائع کرنے کے طریقے بتائے اور شہریار آفریدی اس پر سنجیدہ ہو گئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >