سابق لیگی ایم پی اے کا غنڈوں کے ساتھ ہوٹل میں ایک شخص پر بہیمانہ تشدد

سابق لیگی ایم پی اے کا غنڈوں کے ساتھ ہوٹل میں ایک شخص پر بہیمانہ تشدد

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری ندیم خادم نے جی ٹی روڈ پر واقع نجی ہوٹل پر دھاوا بول دیا اور ہوٹل میں موجود ایک شخص کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والےسابق ن لیگی ایم پی اے چوہدری ندیم خادم کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمران جی ٹی روڈ پر واقع ایک نجی ہوٹل میں ایک شخص پر بدترین تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری ویڈیو میں پولیس سابق ایم پی اے کو قابو کرنے اور ہوٹل سے لے جانے کی کوشش کررہی ہے مگر ن لیگی رہنما اور ان کے ساتھی مسلسل گالم گلوچ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

واقعے کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ ” ن لیگی جہاں بھی ہوں بدزبانی، گالم گلوچ اور غنڈہ گردی سے ثابت کردیتے کہ یہ نوازشریف اور مریم صفدر کے فالورز ہیں، ذرا ان لوگوں کی زبان ملاحظہ فرمائیں”۔

سابق لیگی ایم پی اے کا غنڈوں کے ساتھ ہوٹل میں ایک شخص پر بہیمانہ تشدد

ویڈیو پوسٹ کرنے والے ٹویٹر صارف نے لکھا کہ ایسی حرکت کسی اور جماعت کی جانب سے سامنےآ ئی ہوتی تو اب تک میڈیا پر بریکنگ نیوز چل رہی ہوتی، ویڈیو میں پولیس اہلکار کی بے بسی بھی صاف نظر آرہی ہے حکومت فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دے۔

  • یہ وڈیو شہباز گل نے دیکھی ہے تو عمران خان نے بھی یقیناً دیکھی ہوگی ایکشن تو لینا بنتا ہے لیکن جو حکومت کشمالہ کے قاتل لونڈے کے چار قتل کرنے پہ چپ رہی اس کے لئے یہاں کچھ کرنا ناممکن ہے

  • ان نونی لیگی غنڈوں نے پنجاب میں اندھیر نگری مچائی ہوئی ھے پنجاب کو ان چوروں نے اپنے باپ کی جاگیر سمجھی ہوئی ہیں قانون کو جو کوئی بھی ہاتھوں میں لے اس کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنایا جائے

  • اس مار پیٹ کی بالکل حمایت نہیں کی جا سکتی ، ایک تو اس شخص نے انتخابی سیاست چھوڑ دی ہے، دوسرے یہ کہ اس ریسٹورنٹ میں پارٹنر بھی ہے

    پولیس کے مطابق

    "کاروباری تنازعہ کی وجہ سے سابق ایم پی اے اور ان کے کاروباری پارٹنر میں یہ واقعہ پیش آیا ماسک پہننے پر تشدد کی بات بے بنیاد اور من گھڑت ہے مقامی پولیس فریقین کی شکایات کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لا رہی ہے.”.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >