آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین کے نشانے پر

آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

لیگی رہنما احسن اقبال نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا، یہ گئے اس وقت جب ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں تھا،ہمیں بھی ایسے حالات ملے لیکن اسحاق ڈار نے تین مہینے میں آئی ایم ایف سے ڈیل کرلی، اور پروگرام کو مکمل بھی کیا، پی ٹی آئی کو بھی لے لینا چاہئے تھا،پی ٹی آئی نے موقع ضائع کیا۔

احسن اقبال کے اس بیان پر معاون خصوصی شہباز گل نے ٹویٹ میں جوابی ردعمل دیا کہ یہ کیسی مضبوط معیشت اور جی ڈی پی چھوڑ کر گئے تھے کہ ارسطو صاحب فرما رہے تھے کہ پی ٹی آئی کو حکومت سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کے پاس قرض کے لیے چلے جانا چاہئے تھامضبوط معیشت کو کیا آم لینے جانا چاہیے تھا آئی ایم ایف کے پاس؟

حامد داور نے لکھا کہ نیپال کے ارسطو نے آج ن لیگ کا سارا بیانیہ زمین بوس کردیا
آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

ملک رحمان نے کہا کہ اسی لئے تو کہتے ہیں ان کو لنڈے کے ارسطو۔

آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

ابرارخان نے لکھا کہ ارسطو صاحب فرماتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو حکومت میں آتے ہی آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہیے تھا،مطلب خود تسلیم کرلیا کہ یہ معیشت کا بیڑاغرق کر کے گئے تھے،کتنے بیشرم لوگ ہیں دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ ہمارے ہوتے ہوئے معیشت بہت مضبوط تھی۔

آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

نواز عالم لکھتے ہیں کہ ہر وقت پاکستانی قوم کو بیوقوف بنانے والا ارسطو پروفیسر آج خود ہی اعتراف جرم کر رہا ہے،ہماری جی ڈی پی یہ ہے ہماری جی ڈی پی وہ ہے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنائیں گے 2025تک،پورا ملک آئی ایم ایف کو بیج کر عمران خان پر بکواس کر رہا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

عدیل راجا نے کہا کہ احسن اقبال صاحب نے تو کنفیوز کر دیا۔۔ یعنی نون لیگ والوں کو علم تھا کہ آئی ایم ایف جانا ہی تھا جو بھی حکومت آتی؟ تو معاشی ترقی کا رولا کیا؟ یہ تو سب بیانیہ ہی الٹا ہو گیا نون کا۔

آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر تنقید،احسن اقبال سوشل میڈیاصارفین  کے نشانے پر

  • جس بجو احسنُ اقبال کی سیاسی آ مد ہی جرنیل ضیا کا پالتو کتا بن کر ہوئی ہو اور وہ اپنی شوری ماں کی دلا گیری کرکے سیاست میں آ یا ہو وہُ نطفہ حرام سمجھ کی نہیں دلا گیری کی بات کر سکتا ہے

  • جب سے کنپٹی پر پشاوری چپل پڑی ہے یہ ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے . ایک چپل دوسری طرف پڑے گا تو خود ٹھیک ہو جائے گا . پریشانی کی کوئی بات نہیں .


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >