اینکر ساحر لودھی کی شاعری سے ناشناسی پر سوشل میڈیا صارفین برس پڑے

 

ویسے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں ٹرینڈ ہے کہ رمضان المبارک میں خصوصی نشریات ٹی وی چینلز پر پیش کی جاتی ہیں اور پھر ان میں ایسی ایسی حرکات و سکنات ہوتی ہیں کہ کبھی کسی تو کبھی کسی چینل کے پروگرام کا کوئی حصہ خوب وائرل ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا رمضان سے تو بالخصوص کوئی تعلق نہیں۔

ایسے پروگرامز کے وہ وائرل کلپ جب سوشل میڈیا صارفین شیئر کرتے ہیں تو اپنے دل کی بھڑاس نکالتے اور خوب تنقیدی جائزے بھی لیتے ہیں۔ اب نجی ٹی وی چینل نیوز ون کی رمضان ٹرانسمیشن کا ایک کلپ وائرل ہے جس میں ساحر لودھی بیت بازی کے ایک مقابلے والے پروگرام میں میزبانی کر رہے ہیں اور ان کے ہمراہ 3 نام نہاد ججز بھی موجود ہیں۔

مقابلے میں شریک ایک نوجوان نے اردو ادب کے مشہور شاعر جون ایلیا کا شعر پڑھا تو ساحر لودھی نے ان سے کہا کہ یہ شعر غلط ہے اور شعر میں وزن نہیں جس پر وہاں موجود ججز نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ جس پر مقابلے میں شریک نوجوان بضد رہا کہ ان کا پڑھا شعر ہی ٹھیک ہے۔

ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ساحر لودھی جون ایلیا کو جون بھائی کہتے ہیں اس بات پر بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ساحر لودھی صاحب جون ایلیا کے ٹھیک شعر کو ٹھیک کرتے ہوئے۔

ساحر لودھی جون ایلیا کے ٹھیک پڑھے ہوئے شعر کے بارے میں کہتے ہیں کہ میرے لیے یہ شعر ہی نہیں ہے جس پر صارف شاہ محمد اطہر لکھتے ہیں کہ جب آپ کو علم ہی نہیں شعرا کرام کے کلام کا تو کیوں رائے زنی کرتے ہیں؟ جون ایلیا کے اشعار کو آپ نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ان کا نہیں لگتا، اپنی کم علمی پر شریکِ محفل پر تنقید کر ڈالی، آپ کا مطالعہ وسیع نہیں تو شریک مقابلہ کا کیا قصور تھا؟‘

اس سے قبل ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں ساحر لودھی مشہور شاعر ناصر کاظمی کے اشعار کو بھی غلط پڑھتے دکھائی دیے جبکہ مقابلے میں شرکا کی جانب سے نوجوان شاعر حماد نیازی اور ادریس بابر کے شعروں کا بھی تمسخر اڑایا اور ان کے اشعار کو شاعری ماننے سے ہی انکار کر دیا۔

 ایک موقع پر ایک جج صاحبہ نے یہ تک کہہ دیا کہ ’اردو شاعری میں انگریزی کا لفظ کیسے آگیا۔

&

ارسلان شیرازی نے لکھا کہ لگتا ہے جون صاحب اور ناصر کاظمی صاحب کی شاعری کا پہلا اور مستند قلمی نسخہ ساحر لودھی کے پاس ہے جس کی وجہ سے ان دو مقبول شعراء کے زبان زد عام اشعار میں بھی ساحر لودھی کو گڑ بڑ نظر آرہی ہے۔

صارف نے ساحر لودھی کے بے معنی اور بے ربط انداز سے شعر کو وزن میں لانے کا طریقہ بھی شیئر کیا اور بتایا کہ جون صاحب کے شعر میں نہ تو ربط ہے اور نہ شعر وزن میں ہے، شعر کس طرح کا ہونا چاہیے وہ بھی موصوف نے بتا دیا ہے۔

کچھ صارفین نے اینکر کی اس کم علمی اور شعروشغف سے نابلدگی پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا جبکہ کچھ لوگوں نے کہا کہ انہیں معافی نہیں مانگنی چاہیے کیونکہ وہ رمضان کے بعد ان کی اس غلطی پر انہیں لعن طعن کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عامر لیاقت کی رمضان ٹرانسمیشن کے کلپ وائرل ہوئے تھے جن میں سے ایک میں وہ ناگن ڈانس کر رہے ہیں جبکہ دوسرے میں خاتون ایتھلیٹ کے ساتھ سیٹ پر دوڑ لگا رہے ہیں۔

  • ساحر لودھی خودسری کررہے ہیں، شعر صحیح ہے، انہیں اور ننھی جج صاحبہ کو شاعری کا ادراک نہیں ہے، کیوں دونوں میں سے کسی ایک نے صحیح شعر نہیں پڑھ دیا!؟

  • دوسرا شعر غلط تھا افسوس اس پر بات نہ کی درست کو غلط کہتے رہے۔
    درست شعر👇🏻
    مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
    مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
    انہوں نے بولا:
    مل رہے ہو بڑے تپاک کے ساتھ
    آخری بار مل رہے ہو کیا
    ایک اور شعر اسی غزل کا ہے
    کیا کہا عشق جاودانی ہے!
    آخری بار مل رہی ہو کیا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >