خاتون اسسٹنٹ کمشنر اور فردوس عاشق میں تنازعہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز

خاتون اسسٹنٹ کمشنر اور فردوس عاشق میں تنازعہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

گزشتہ روز سیالکوٹ میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور فردوس عاشق میں تنازعہ پر سوشل میڈیا کئی ٹرینڈز بن گئے۔ ان ٹرینڈز میں #SoniaSadaf #FirdousAshiqAwan #افسر_شاہی_عوام_کو_جوابدہ #ACSIALKOT شامل تھے۔

سوشل میڈیا صارفین نے ان ٹرینڈز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے فردوس عاشق اعوان کے روئیے کی مذمت کی تو کچھ نے حمایت کی۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کا یہ کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کوخاتون افسر کیساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنا چاہئے تھا تو کسی نے کہا کہ یہ افسران اسی لائق ہیں، یہ اے سی میں بیٹھے رہتے ہیں، کرتے کچھ نہیں ۔

تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے ایک ٹرینڈ #افسر_شاہی_عوام_کو_جوابدہ شروع کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ افسرشاہی عوام کو جوابدہ ہے۔فردوس عاشق اعوان نے جو کیا صحیح کیا، یہ افسر شاہی خود کام نہیں کرتی اور بدنامی حکومت کے حصے میں آتی ہے۔اس افسر شاہی کو کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی؟

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ یہ بیوروکریسی مسلم لیگ ن سے جوتے کھاکر بھی کام کرتی ہے لیکن تحریک انصاف پیار سے بات کرے تو یہ آسمان پر چڑھ جاتے ہیں، ان سے ڈنڈے کے زور پر کام لینا چاہئے۔

دراصل ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں سستے رمضان بازاروں میں ناقص اشیا کی فروخت پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اے سی سیالکوٹ سونیا صدف پر برس پڑیں، انہوں نے سونیا صدف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں کس بے غیرت نے اسسٹنٹ کمشنر لگا دیا، افسر شاہی کی کارستانیاں حکومت بھگت رہی ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ آپ کی حرکتیں اسٹنٹ کمشنروالی نہیں ہیں ، آگر آپ اسسٹنٹ کمشنر ہیں تو عوام کا سامنا کریں، ان سے چھپ کیوں رہی ہیں۔ ہر جگہ بہترین کام ہورہا ہے مگر سب سے بُرا حال سیالکوٹ کا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کے اس روئیے پر نہ صرف سوشل میڈیا صارفین بلکہ سیاسی رہنماؤں نے بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ اپنی ناکامی اور بدترین ارکردگی کا غصہ سرکاری افسران پر نکالنا فرعونیت ہے۔رمضان بازاروں ميں غير معياری،مہنگی اشياء حکومتی نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔سرکاری افسران آپ کے ذاتی ملازم نہیں۔سيالکوٹ کے رمضان بازار ميں خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ ہونے والا سلوک قابل مذمت ہے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ سول سرونٹس اور بیوروکریٹس پڑھ لکھ کر، محنت کر کے، مقابلے کے امتحان پاس کر کے اس مقام تک پہنچتے ہیں، SELECT ہو کر نہیں آتے۔ وزیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو افسران کی تذلیل کا لائسنس مل گیا ہے۔ یہ رعونت قابل قبول نہیں۔ سونیا صدف سے معافی مانگیے

عابد شیر علی نے فردوس عاشق اعوان کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ سیالکوٹ میں فردوس عاشق نے خاتون سرکاری افسر کے ساتھ سخت بدتمیزی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کر کے اپنی اوقات دکھا دی۔ یہ اخلاق باختہ لوگ اپنے لیے گڑھے خود ہی کھود رہے ہیں۔ سرکاری مشینری کے ساتھ یہ رویہ رکھنے کے بعد آ پ توقع نہیں کرسکتے کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی فردوس عاشق اعوان کے روئیے کی مذمت اور اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے روئیے کی تعریف کی۔

صرف یہی نہیں تحریک انصاف کے عثمان ڈار بھی سونیا صدف کی حمایت میں سامنے آئے اور کہا کہ سیالکوٹ کے رمضان بازار میں اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ پیش آئے ناخوشگوار واقعے پر افسوس ہوا! میں ذاتی طورپر اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو جانتا ہوں وہ ذمہ دار اور قابل آفیسر ہیں! خواتین کا ہمارے معاشرے کے گورننس سسٹم میں کردار انتہائی خوش آئیند ہے جسے سراہا جانا چاہیئے!

  • اگر اسٹنٹ کمشنر کی کوئی غلطی اور کوتاہی تھی بھی تو اس طرح سر عام بے عزت کرنے کئ بجائے کسی مناسب جگہ مناسب فورم پر بلا کر اس کو سمجھایا جاتا یا اس کے سینیئر آفیسر کے ذریعے اس کی سرزنش کرائی جا سکتی تھی
    لیکن بے عزتی نہیں کی جاتی

  • firdous ashiq did the right thing, she was protecting the rights of common man while these bureaucrats class just work for elite.public pay for their king style living. Maryam safder is showing symphathy but she forget her attitude with lady police officer,


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >