فواد چودھری نے حدیبیہ پیپر ملز کیس کو پاناما سے بڑی کہانی اور فراڈ قرار دیدیا،یہ کیس کیسے شروع ہوا ؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی ابتدا 2000 میں اس وقت ہوئی جب نیب حکام نے حدیبیہ پیپرز کیخلاف ایک ریفرنس دائر کیا۔

فواد چودھری نے کہا ‏دلچسپ بات یہ تھی کہ اتنی تفصیلی تفتیش کے بعد اس کیس کا ایک دن بھی عدالتی ٹرائل نہیں ہوا، جس جج نے کیس بند کرنے کا فیصلہ دیا پاناما کیس کے انکشافات کے مطابق اس جج کے اپنے اثاثے بھی بیرون ملک تھے، بدقسمتی سے ان جج صاحب کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ٹوئٹر پر جاری تھریڈ میں فواد چودھری نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس تقریباً 1242 ملین روپے کے فراڈ کی کہانی ہے اور یہ کیس بلحاظ حجم پانامہ پیپرز کیس سے بڑی کہانی ہے، اس کی ابتدا 2000 میں ہوئی جب نیب نے حدیبیہ پیپرز کےخلاف ریفرنس دائرکیا۔

انہوں نے کہا نیب نے نشاندہی کی کہ شریف خاندان نے ریاستی و حکومتی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکی، کیس احتساب عدالت میں آیا تو شریف فیملی ڈیل کرکے سعودی عرب چلی گئی۔ 9/ 2008 میں معاملہ دوبارہ اٹھایا تو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے مک مکا نےکیس پھر رکوا دیا، کہا گیا کیس نہیں چل سکتا چیئرمین نیب کے دستخط نہیں ہیں، کارروائی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کی گئی تو 2 رکنی بینچ نے منقسم فیصلہ سنایا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ریفری جج نے مقدمہ بند کرنے کی رائے کی حمایت کی تو مقدمہ 2014 میں بندکردیا گیا۔ اتنی تفصیلی تفتیش کے بعد اس کیس کا ایک دن بھی عدالتی ٹرائل نہیں ہوا۔

وزیراطلاعات نے امید ظاہر کی ہے کہ عدلیہ ان ججوں پر کارروائی کرے گی جنہوں نے شریف فیملی کی معاونت کی، انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ فواد چودھری نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے میں اب کچھ نئے حقائق بھی سامنے آئے ہیں جن پر تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>