سوشل میڈیا پر اوورسیز اور مقامی پاکستانیوں میں تندوتیز بحث کا موضوع کا تھا؟

سوشل میڈیا پر اوورسیز اور مقامی پاکستانیوں میں تندوتیز بحث کا موضوع کا تھا؟

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بیرون ملک مقیم ہمارے پاکستانی موجودہ حکومت کے گُن گاتے نظر آتے ہیں مگر یہاں پر موجود ہمارے ملک میں رہنے والے پاکستانی حکومت کے کئی کاموں پر تنقید کرتے ہیں۔

اسی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے حوالے سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فیصلہ سامنے آیا ہے جس پر بیرون ملک مقیم پاکستانی تو خوش ہیں مگر اس فیصلے پر کئی پہلوؤں سے یہاں پر رہنے والے لوگ تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کا مؤقف ہے کہ بیرون ملک مقیم لوگ صرف میڈیا پر نظر آنے والی چند خبروں کی بنیاد پر اپنی رائے بناتے ہیں جبکہ یہاں پر رہ کر حکومتی فیصلوں سے متاثر ہونے کے باوجود اس کے حق میں بیان دینا تھوڑا مشکل ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ہفتہ 8مئی کو آئین کے آرٹیکل83 کے تحت الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کیا۔ نئے قانون کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے الیکشن کمیشن پاکستان کی مدد سے عام انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنا ممکن ہو گیا ہے۔ ترمیم کی دفعہ 103 کے تحت انتخابی ادارہ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنے کا پابند کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کیلئے سوچے جانے پر وہ انتہائی مشکور ہیں۔ وقار ملک نے کہا کہ بطور بیرون ملک مقیم پاکستانی ان کی نظر میں عمران خان کی قدر بہت بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح وہ باہر بیٹھے پاکستانیوں کے حق کی بات کرتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے دل میں ان کی کیا قدر ہے۔

عدیل مرزا نے کہا کہ وہ2007 سے بیرون ملک مقیم ہیں اور عمران خان کے بطور وزیراعظم فیصلوں کو پسند کرتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح وہ اپنے سفارتخانوں کو اپنے لوگوں کے لیے سہولت کی جگہ بنانا چاہتے ہیں ایسا کسی نے نہیں کیا۔

مریم نامی بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے لوگ باہر رہنے والے لوگوں کے دلوں میں موجود محبت کو کسی صورت کم نہیں کر سکتے۔

عمران جلالی نامی اوور سیز پاکستانی نے کہا کہ وہ عمران خان کے بہت شکرگزار ہیں، کیونکہ ان سے قبل کسی کو اس بارے میں خیال نہیں آیا۔

دوسری جانب ملک میں رہنے والے کئی پاکستانی حکومت اور یہاں کے ارباب اختیار کے فیصلوں سے نالاں ہی نظر آئے جس طرح ایک صارف نے کہا کہ جب وہ بیرون ملک جائیں گے تو اپنے ملک سے لازوال محبت کریں گے کیونکہ یہ کام ان سے یہاں رہ کر تو نہیں ہو رہا۔

عافیہ اسلم نے کہا کہ جو اوورسیز پاکستانی ہیں ان کو چاہیے کہ وہ یہاں آ کر دیکھ لیں کیا حالات ہیں انہیں بھی لگ پتا جائے گا۔

ایک صارف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پیار ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ اپنے گاؤں سے پیار کرتے ہیں اور وہاں صرف سال میں ایک ہی بار جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بڑے شہر میں رہنے کا کیا مطلب ہے، کیونکہ وہاں زیادہ مواقع ہیں اور گاؤں میں وہ اس ڈر سے نہیں جاتے کہ غیرت کے نام پر نہ مارے جائیں۔

اُشنا نامی صارف نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ میری باتوں سے مطمئن ہیں یا میں اور بولوں؟

ایک صارف نے کہا کہ اگر آپ اپنے ملک سے باہر بھی رہتے ہیں تو ملک کیلئے محبت کا اظہار ضرور کریں مگر اس کے لیے وہاں رہنے والے لوگوں کے تجربات اور مشکلات کو چیلنج نہ کریں۔ کیونکہ اگر آپ یہاں نہیں رہ سکتے تو اس کی بھی ایک وجہ ہے۔

حکومت فیصلوں سے بیزار ایک اور صارف نے کہا کہ اگر وہ بیرون ملک جائیں تو وہ سب سے پہلے یہ کام کریں گی کہ اپنے کام سے کام رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ باہر بیٹھے زیادہ تر لوگوں کو یہ سیکھنا چاہیے۔

عثمان نے کہا کہ باہر بیٹھے حب الوطنی سے سرشار کسی پاکستانی کا دل کرے تو وہ اپنی جگہ انہیں باہر بھیج دے اور خود یہاں آکر رہ لے۔

کیمالسٹ پاکستانی نے کہا کہ ہمارا یہاں یہ حال ہے کہ ہمارے پاس پہننے کے لیے جوتے تک نہیں اور باہر بیٹھے پاکستانی صرف اس لیے اہم ہیں کیونکہ وہ ترسیلات زر بھیجتے ہیں۔

ایک اور صارف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی کچھ زیادہ ہی اوور ہو جاتے ہیں۔

 

  • Oversees Pakistani mulk kay liyee sharam ka maqaam hain.. Yeh sab kay sab 90% fraud hain, hum Pakistanio say bhi baray, khaas toor per Europe aur UK walay, anparh, jahil…. UK kee welfare aur fraud per hain…..Ulta yeh Pakistan aa ker Pakistano say fraud ker kay chalay jaatay hain…. #UKWelfarePerPalnayPakiPerLanat

  • My self been very mistreated in Bradford Pakistani consulate UK, by passport office the passport officer I himself is disabled on one leg, he treated me very bad, I visited there for making passport he didn’t even see the cnic and push back my card and say ” you Urdu ascent is like Afghani” I said sir I am Pushton, and our family living in kpk from generations, he said no and leave the office then he start saying Infront of others that ” pata nahee kaha Kaha say moo uta ky ajatay hy” I said to him why you refused he said your face look like Afghani so I said if I say you face colour is like Sri Lankan then what are you doing here in my country consulate. He said what ever you just leave, this is the story of the Bradford Pakistani consulate general passport office.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >