اسرائیل کی وکالت کرنیوالے مبشرلقمان کی قلابازیاں، سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

اسرائیلی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اسرائیل کو تسلیم کرنیکی حمایت کرنیوالے مبشرلقمان نے یوٹرن لے لیا۔۔ اپنی نئی ویڈیو میں مسلمان حکمرانوں کو غیرت، حمیت سے عاری اور بے حس حکمران قرار دیدیا۔۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین نے ان کے پرانے کلپس شئیر کرکے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

معروف اینکر اور صحافی مبشر لقمان نے کچھ عرصہ قبل اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان اور اسرائیل کے مستقبل کے متعلق گفتگو کی اور اسرائیل پاکستان تعلقات کی حمایت کرتے اور اسرائیل کو تسلیم کرنیکا مطالبہ کرتے نظر آئے ۔

اسرائیلی ٹی وی چینل پے انٹرویو دیتے ہوئے مبشرلقمان نے اسرائیل کی قوم کو ایک عظیم قوم قرار دیا اور یہ کوشش کی کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات کی راہ ہموار کی جائے۔  ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آپس میں سفارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے ذریعے نہیں بلکہ براہ راست اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہئیے۔پاکستان کو اسرائیل سمیت تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔

مبشرلقمان کا  مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی قوم  ایک عظیم قوم اور جنگجو قوم ہے ۔ کبھی پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم ہونے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو اس کے لیے دونوں ملکوں کو باہم مل کر کام کرنا ہو گا۔ اس کے لیے انہیں امریکہ، سعودی عرب یا کسی بھی اور ملک کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔

لیکن لگتا ہے کہ حالیہ دنوں میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم اور پاکستانیوں کی اسرائیل کی مذمت پر مبشرلقمان نے یوٹرن لے لیا اور اپنے یوٹیوب چینل پر اسرائیل کی کاروائیوں کی کھل کر مذمت کی اور پاکستان سمیت مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی غیرت کوبھی للکارا۔

مبشرلقمان نے مسلمان حکمرانوں کو بے حس، غیرت اور حمیت سے عاری قرار دیا اور انہیں امریکہ کے دم چھلے قرار دیا۔

اپنے وی لاگ میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کاروائیاں مسلمانوں کی غیرت پر سوالیہ نشان ہیں۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے اور انہیں غیرت دے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کھل کر سامنے آسکیں اور انکی ظالمانہ کاروائیوں کی مذمت کرسکیں۔

مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کی بیحرمتی کی گئی تا کہ مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں۔ اقصیٰ کی بیٹیاں پکاررہی ہیں، مسلمان حکمران اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ایک خالی پیلی کانفرنس ہی کرلیں۔

اس پر عدیل حبیب نے مبشرلقمان کے اسرائیلی ٹی وی چینل پر انٹرویو کو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ پہلے یہ صحافی اسرائیلی ٹی وی پر جا کر پاکستان پر پریشر ڈال رہا تھا کہ اسرائیل کو پاکستان قبول کرے اور آج۔۔۔اس دو نمبر صحافی کا کوئی دین ایمان نہیں۔

دیگر سوشل میڈیا صارفین نے مبشرلقمان کو انکے یوٹرنز یاددلائے اور کہا کہ آج مسلمان حکمرانوں کی غیرت کو للکارنے والے صحافی کی غیرت اس وقت کہاں تھی جب وہ اسرائیلی چینل پر بیٹھ کر کہہ ر ہا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ آپ تو یہودی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر مسلسل کمپین چلارہے تھے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔۔ آپکو غیرت اور حمیت کی باتیں اس وقت یاد نہیں آئیں جب آپ اسرائیل کو عظیم قوم قرار دے رہے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ مبشرلقمان نے اسرائیلی مظالم پر آواز اسلئے اٹھائی کیونکہ وہ اپنا چینل پروموٹ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں یوٹیوب پر ویوز اور لائیکس چاہئے تھے۔

  • اسی لیے سیانے کہہ گئے ہیں کہ ہاتھ کی لگائی منہ سے کھولنی پڑتی ہیں۔ اس جیسے بلیک میلر ٹائپ ٹاوٹ کو ڈپلومیسی کے اسپیلنگ بھی نہیں آتے ہوں گے، اور چلا ہے باہر کے چینل کو انٹرویو دینے

  • He is a ‘whore’, speaks for money. Depends if the payer is Israeli (Tv channel) or muslim liking video (on YouTube).

    He will even live stream himself being fu*ked, if paid well. The man has no principles, vision, he speaks for attention sake. And is in same category as Amir Liaqat.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >