اسرائیل مخالف متنازعہ ٹویٹ،صحافی عدیل راجہ کو سی این این نے نوکری سے برطرف کر دیا

اسرائیل مخالف متنازعہ ٹویٹ،صحافی عدیل راجہ کو سی این این نے نوکری سے برطرف کر دیا

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی محصور پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں اب تک 58 بچوں سمیت 192 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنا دیا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔

اس سے قبل رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اتوار کے روز فضائی حملوں میں اسرائیلی فوج نے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحیٰ السنور کے گھر کو نشانہ بنایا، مذکورہ رہنما کو 2011 میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔

قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے۔

فلسطین میں پیش آنے والی اس ساری صورتحال کے تناظر میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے سی این این سے منسلک صحافی عدیل راجہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو ایک ایڈولف ہٹلر کی ضرورت ہے۔

اسرائیل مخالف متنازعہ ٹویٹ،صحافی عدیل راجہ کو سی این این نے نوکری سے برطرف کر دیا

عدیل راجہ کی اس ٹوئٹ کے بعد بین الاقوامی میڈیا میں اس کی بازگشت شروع ہو گئی اور غیر ملکی خبررساں اداروں نے سی این این کو نازی سوچ کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے منسلک صحافی نے ہٹلر کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے نتیجے میں سی این این نے عدیل راجہ کو نوکری سے برطرف کر دیا۔

علاوہ ازیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ  ٹرمپ جونیئر نے سی این این کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صحافی کا ایسا مطالبہ اب ان کی سمجھ میں آ گیا ہے۔ کیونکہ انہیں اس سے حیرانی نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ پاکستانی صحافی ارشد شریف نے بھی بتایا کہ کس طرح آزادی اظہار رائے کی گردان کرنے والے مغربی میڈیا نے اپنے ایک پاکستانی ورکر کو اسرائیل کے خلاف ایک ٹوئٹ پر نوکری سے فارغ کر دیا۔

اس پر خود عدیل راجہ نے بھی کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ مسئلہ فلسطین کو ان کے ایک ٹوئٹ کے باعث اس قدر جلا ملی ہے۔ بیشک اس سے مغرب کے آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کے دعوؤں کی بھی قلعی کھل گئی ہے۔ کیونکہ ایک ٹوئٹ پر انہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ گیا ہے۔

  • He should have rephrased his comment as : World watches another holocaust, this time by those claim to be holocaust victims… Calling for Hitler actually gives chance to shout victim card.

  • He is gandu could have chosen his world carefully and instead of saying the world needs another Hitler he could have compare Nathyu with Hitler. But as usual he is chootyia and deserves to be sacked.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >