کرونا وبا: سوشل میڈیا صارفین کے منصورعلی خان کا پراناکلپ شئیرکرکے طنز کے تیر

مشہور اینکر پرسن منصور علی خان ان دنوں اپنے ایک ماضیٰ کے دعوے کے زیر عتاب آئے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے اس بیان کو پیش کرکے ان سے استعفیٰ دینے کے وقت سے متعلق استفسار کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اینکر پرسن منصور علی خان نے گزشتہ برس 5 جون کو ایک پروگرام کے دوران تجزیہ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کی اور کہا کہ ملک میں کورونا کی مجموعی صورتحال خراب ہے، آج سے دس پندرہ سال بعد یہ لکھا جائے گا کہ ایسا وزیراعظم آیا تھا جو ملک کو ایک خطرناک وباء کےدوران سنبھال نہیں سکا۔

انہوں نے اپنے تجزیہ کے دوران وزیراعظم عمران خان کی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بنائی گئی پالیسیز کو ناقص اور اقدامات کو ناکافی قرار دیا تھا، تاہم آج عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے پاکستان میں کورونا اور اس بحران کے دوران ممکنہ طور پر بڑھنے والی مہنگائی کو قابو کرنے کے اقدامات کو سراہا ہے۔

سوشل میڈیا پر چند شریر صارفین نے منصور علی خان کا ماضی کا بیان ڈھونڈ کر اسے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے بیان سے جوڑ کر وائرل کرنا شروع کردیا ہے کہ آپ تو 10 -15 سال بعد کی بات کرتے تھے یہ تو ایک سال میں ہی معاملات قابو میں آگئے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ منصور علی خان اپنے دعوے کے غلط ثابت ہونے پر مستعفیٰ ہوجائیں اور صحافت چھوڑ دیں۔

مشہور صحافی ملیحہ ہاشمی نے منصور علی خان کے دعوے کو شیئر کرتے ہوئے لکھا "گیٹ ویل سون” یعنی اللہ آپ کو جلد صحت یاب کرے۔

ٹویٹر پر حسن مشہدی نامی ایک صارف نے لکھا کہ وہی مورخ لکھے گا کہ اس حکمران نے وبا، مافیاز، بکے ہوے میڈیا، پی ڈی ایم نامی غول اور بین الاقوامی مسائل کا بخوبی سامنا کیا جب کہ اس نے نہ لانگ بوٹ پہنے تھے نہ ملک سے باہر جائیدادیں بنائی تھیں۔

اشفاق محمود نے کہا کہ آج برطانیہ کے ایک چینل نے پاکستان کا نام ان ملکوں میں شامل کیا جن کی بہتر حکمت عملی سے عوام کا کم جانی نقصان ھوا الحمداللہ امریکا اور جرمنی فرانس جیسے ملک اس فہرست میں نہیں تھے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کووڈ-19 کا ماشاءللہ جوانمردی سے مقابلہ بھی کیا اور اس وباء کو شکست بھی دی۔

یسریٰ نامی صارف نے کہا کہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس وباء کے دوران ہمارے ملک پر عمران خان کی حکومت ہے اگر اس دوران ن لیگ یا پی پی کی حکومت ہوتی تو وہ ہمیں اللہ کے حوالے کرکے فرار ہوجاتے ۔

عثمانی لکھتے ہیں کہ اس وزیراعظم نے کورونا بحران کے باوجود ملک کی معیشت کو سنبھال لیا۔

  • اس بھونکو منصور پٹودی پٹواری پر اب بھی بولنے کی پابندی ھے اس بھونکو منصور نے عمران خان کے خلاف کیا کیا نہیں بھونکا لیکن اس منصور پٹودی پٹواری کے الفاظ واپس اس کے منہ پر پھٹکار بن کر برسے ہیں لیکن صحافیوں کا یہ بیغیرت بیشرم فرقے میں شرم و حیاء کا مادہ ختم ہو چکا ھے

    • اگر اس طرح اس کنجر کا بھونکنا پابندی کے باوجود تھا تو پھر گدھے کے بچے ہیں پابندی لگانے واکے اور اگر پابندی نہ ہوتی تو سور خاں شاید اپنی گھر والیوں جو سڑپر ننگا کرکے نچاتا

  • Jhoot kay paoon naheen hotay or MAK key paas akal naheen hotee!
    Jhoot–1015 saal baad jub azadi ho gee to likha jai ga–Or is zubaan bandee kay dauraan sub keh diya?? To likha gaya!!
    Akal—Apnay dimagh say sochta na k kisee kay mala say to shaid theek nateeja nikalta or mazak na urvata. Sanhoon key!

  • ان ایف اے فیل لعنتیوں سے اپنی صحافت ہوتی نہیں اور حکومت کے بڑے بڑے دماغوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں کہ حکومت کیسے چلانی ہے؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >