حامد میر نے بھارتی میڈیا کا سہارا لینا شروع کر دیا ، حامد میر کا بھارتی اخبار میں کالم

اسدطور حملہ کیس کے بعد حساس اداروں کے خلاف غلیظ اور نازیبا زبان استعمال کرنے والے پاکستانی صحافی حامد میر کو جنگ گروپ کی جانب سے تو پابندی کا سامنا ہے مگر انہوں نے اب اپنے مؤقف کی حمایت میں بھارتی میڈیا کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔

حامد میر نے دی پرنٹ نامی بھارتی آن لائن انگریزی اخبار میں کالم لکھا ہے جس سے متعلق انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ اتنا اس لیے بولتے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ ان پر2 بار قاتلانہ حملہ ہوا، 2بار نوکری سے ہٹایا گیا، قتل اور اغوا کے جھوٹے مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ انہیں اپنی صحافت کی وجہ سے توہین مذہب جیسے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

اپنے اس کالم میں حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ جیو نیوز کی جانب سے ان کے پروگرام پر پابندی عائد ہونے کے بعد ان سے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ پاکستان کب چھوڑ رہے ہیں۔ جبکہ وہ آگے سے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کیوں چھوڑیں؟

حامد میر نے کہا کہ ان کے چاہنے والوں کا خیال ہے کہ اسدطور حملہ کیس میں آزادی صحافت کے حق میں کی جانے والی تقریر کے نتیجے میں وہ کسی حادثے میں مارے جا سکتے ہیں یا پھر سے نامعلوم افراد ان پر حملہ کر سکتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ وہ پاکستان چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ2007 میں بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسی طرح کی پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ اس احتجاج میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں گئے تھے کیونکہ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے کسی لڑکی کے بھائی ہیں، اگر وہ کسی لڑکی کے بھائی بھی ہیں تو انہیں بھی اس جرم کیلئے گرفتار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اتنا اس لیے بولتے ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھی صحافیوں پر پریشر ڈالا جا رہا ہے اور انہیں سنسرشپ جیسے مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں کسی ادارے یا شخصیت کا نام نہیں لیا میں تو بس ان نظر نہ آنے والے عناصر کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ بس اب بہت ہو چکا۔

یاد رہے کہ حامد میر پر 2014 میں ایک حملہ ہوا تھا اور ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ ان کی جانب سے اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر لگایا گیا تھا تاہم اس الزام کے ثبوت میں ان کے پاس کوئی شواہد نہیں تھے۔

  • ویسے پاکستان کے دشمنوں اور را سی آئی اے موساد وغیرہ کےپاس اب یہ ہتھیار بھی آگیا کہ اس کو یا اس کے گھر والوں کو کسی نامعلوم حملے میں مروا کر اس کا الزام اداروں پر لگا کر پاکستان میں کافی ہنگامہ کروا سکتے ہیں

  • obstacle are one who are supported by our enemy…example of Pakistan obstacle is …black sheep in media…fake news…supported by or enemy (india)…i.e Hamid mir and like wise…self explanatory….Pak army is the love and back bone of Pak…so deep pockets attacks it

  • یہ میر جعفر میر صادق خواہ مخواہ پاکستان کے میڈیا کی سوتن بن رہی ھے کہ ھم اندر کی باتیں بتائیں گے تم اپنے سیاسی باپ نواج شریف اور زاداری شریف کی اندر کی باتیں بتاؤ کہ کیس طرح سے تم حرام خور اینکرز صحافیوں اور میڈیا چینلز کو عوام کے ٹیکسوں کا 40 ارب روپیہ کھیلایا گیا ھے تم موٹر سائیکل سوار حرام خور اینکرز اور کرپٹ صحافیوں کا ٹولہ کڑوروں اور اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اس کی انویسٹیگیشن ہونی چاہیئے

  • اس سور کے بچے میر جعفر سے معلوم اندر کی باتیں ضرور بھونکو اور ضرور بتاؤ حرام زادے را کے پالتو اگر کسی جرنیل کا کوئی افئیر ہے کوئی گرل فرینڈ ہے کوئی جرنیل کوئی حرام کاری کرتا ہے تو وہ اسکا زاتی اور گھریلو معاملہ ہے مگر اس معاملے کو فاش ہونے سے بچانے کے لئے تک جیسے حرام زادے را کے پالتو کتے یا کلبوشن یادو یا کسی بھی حرام زادے ملک دشمن کو کھلی چھٹی تو نہیں دی جاسکتی اس واسطے کلبوشن اور تجھ جیسے را کے کتے کو جو بھونکنا ہے کسی بھی جرنیل کع ننگا کرنا ہے ضرور کرو مگر یہ بھول جاؤ کہ اس کرنیل کی خاطر تیرے جیسے حرام زادے اور را کے کتے کو فری ہینڈ اور کلئیرنس مل جائیے گی


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >