بحریہ ٹاؤن ایشو پہ میڈیا خاموش کیوں ؟ سوشل میڈیا صارفین نے سوال کھڑے کردئیے

بحریہ ٹاؤن ایشو پہ میڈیا کیوں خاموش ہے؟ سوشل میڈیا صارفین نے سوالات اٹھادئیے۔

بحریہ ٹاؤن کراچی میں کچھ عرصے احتجاج چل رہا ہے ، احتجاج کرنیوالوں کا کہنا ہے کہ ملک ریاض سندھ حکومت کی سرپرستی میں انکی زمینوں پر زبردستی قبضہ کررہی ہے۔ گزشتہ روز احتجاج کی سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین بحریہ ٹاؤن کےباہر احتجاج کر رہے ہیں اور اس دوران املاک کو آگ بھی لگائی گئی۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ’غیر قانونی قبضے چھڑوانے کے لیے‘ ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔

اس پر سندھ حکومت نے ایکشن لیا اور 50 کے قریب افراد کو گرفتار کرلیا لیکن اسکے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس احتجاج میں سندھی قوم پرست جماعتوں کے بعد ایم کیوایم پاکستان بھی شامل ہوگئی ہے۔

بحریہ ٹاؤن ایشو کو مین سٹریم میڈیا پر بلیک آؤٹ کرنے پر متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا کہنا ہے کہ آخرکیا وجہ ہے کہ ایک طرف میڈیا یہ دہائی دے رہا ہے کہ اسکی آواز کو دبایاجارہا ہے لیکن دوسری طرف میڈیا ملک ریاض ایشو پر نہیں بولتا، کیا حکومت نے میڈیا کو ملک ریاض ایشو پہ بولنے سے منع کیا ہے؟

سوشل میڈیا صارفین نے ملک ریاض کو میڈیا کی ڈیپ پاکٹس بھی قرار دیا اور کہا کہ ملک ریاض سب سندھ حکومت کی سرپرستی میں کررہا ہے اور ملک ریاض نے نہ صرف سندھ حکومت بلکہ ریٹائرڈ جرنیلوں، میڈیا کو کھلاپلاکر اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا صارف ریان نے لکھا کہ جس طرح مشرقی خواتین شوہر کا نام نہی لیتیں ایسے ہی میڈیا ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کا نام نہی لیا. اے جی، او جی، سنیں جی، ایک ہاؤسنگ سوسائٹی، منے کے ابا وغیرہ.

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ پاکستانی میڈیا واقعی آزاد نہیں ملک ریاض کا نام تک نہیں لے سکتا قبضہ مافیا کے خلاف خبر تک نہیں دے سکتا سرینہ عیسیٰ اپنےبیان سے مکر گئی، لیکن کسی نے رپورٹ نہیں کیا الطاف حسین کے دور میں اس کا نام تک نہیں لے سکتے تھے مریم کے جھوٹوں ، زرداری اور نواز کی کرپشن پر بات تک نہیں کر سکتے

فرزانہ نے تبصرہ کیا کہ جیسے اسرائیل کا فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کرنا حرام ہے اسی طرح ملک ریاض کا غریبوں کی زمینوں پر قبضہ حرام ہے۔ لیکن اسرائیل اور ملک ریاض دونوں نے ڈیپ پاکٹس کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کررکھاہے۔

پاکستانیت نے لکھا کہ ملک ریاض کی غنڈہ گردی سندھ حکومت کی سرپرستی میں جاری ، غریب دیہاتیوں کی زمینوں پر قبضے ، سرکاری زمینوں پر قبضے ، سرمایہ کاروں سے سالہا سال سے فراڈ ، سپریم کورٹ کا جرمانہ دینے کے لئے عام آدمی کے طے شدہ پلاٹ ریٹ میں جبری اضافہ ، ظلم لاقانونیت مگر سارا میڈیا خاموش

ناصر خان نے تبصرہ کیا کہ ملک ریاض کے پاس اتنا پیسا آگیا لیکن نہ اسکی کوئی کلاس ہے نہ اسکے بچوں کی۔ خود تعلیم حاصل نہیں کر سکا بچوں کو بھی کوئی خاص تعلیم نہیں دی اتنے پیسے اور میڈیا پاور کے ساتھ ملک میں کیا کچھ کر سکتا تھا مکیش امبانی انڈیا میں کیسا زبردست کام کر رہا ہے relience jio کمال کر رہا ہے

فہد علی نے لکھا کہ افسوس کہ ہمارا میڈیا مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے کیلئے تو آزاد ہے لیکن ملک ریاض و زرداری گروپ کے خلاف بولنے میں قید ہے

صاحب علی نے لکھا کہ یہ دراصل حقیقت ھے ھمارے میڈیا کی سب کو پتا ھے کہ ملک ریاض کا میڈیا میں کتنا اثر رسوخ ھے ملک ریاض کے خلاف کوئی بھی اینکر پروگرام کرنے کی جرت نہیں کرسکتا اس کی زندہ مثال مبشر لقمان اور مہر بخاری کو دیکھ لیں جو انٹرویو لیا گیا تھا اس میں کس کس شخصیات کی کال آرہی تھیں کہ تنگ نہیں کرنا

چھوٹا خان نے تبصرہ کیا کہ میڈیا صحافی ہر وقت آزادی اظہار رائے زبان بندی کا رونا روتے ہیں آج تک کسی ادارے نے انکی زبان بند نہیں کی ، انکی زبان صرف ایک ہی چیز بند کر سکتی ہے وہ ہے پیسہ جیسے ملک ریاض سے ہڈی ملنے پر اسکے قبضوں پر اکثریت صحافی اور میڈیا چینلز چپ ہیں

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ملک ریاض کے ہر ایشو پر میڈیا خاموش تماشائی۔

موڈی سرکار نے تبصرہ کیا کہ مجھے ڈر ہے کہیں میڈیا ملک ریاض کو محمد بن قاسم نا ثابت کردے جس نے سندھ فتح کیا تھا۔

  • ہمیشہ سنا تھا کتوں کو ہڈی اور راتب ڈالو تو مالک کے حق اور مالک کے مخالفوں کے خلاف بھونکتے ہئں
    مگر پہلی بار دیکھا کہ ہڈی اور راتب خاموش بھئ کرا دیتا ہے اور بھونکنا تو درکنار چوں بھی نہیں نکلتی

  • ٹھیکیدار سارا حرام کا مال خود ہی نہیں کھاتا، بلکہ ان فضلہ خور میڈیا والوں کو بھی کھلاتا ہے تاکہ انکا منہ بند رہے۔
    سیاستدان اور دیگر ادارے تو پہلے ہی اس ٹھیکیدار کے ملازم ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >