فردوس عاشق اعوان، مندوخیل لڑائی: اینکر جاوید چوہدری پر سوال کیوں اٹھ رہے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور پیپلر پارٹی کے رہنما جاوید مندو خیل کے درمیان لڑائی کے دوران میزبان جاوید چوہدری بار بار چپ کرواتے رہے، کوشش کرتے رہے کہ لڑائی نہ ہو، تھک ہار کر وقفہ بھی لیا، لیکن جہاں سوشل میڈیا پر فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل پر تنقید ہورہی ہے وہیں سینیر صحافی اور اینکر جاوید چوہدری پر بھی بات کی جارہی ہے۔

متعدد صارفین کاد عویٰ ہےکہ جاوید چوہدری جان بوجھ کر لڑائی کروا کر دور رہ کر ویڈیو بنواتے رہے،جاوید چوہدری کو معلوم تھا کہ ویڈیو بن رہی ہے اور وہ بنواتے رہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ جاوید چوہدری ایک فریق کے خاتون ہونے کی وجہ سے دور رہے لیکن ساتھ ہی دوسروں کا کہنا ہے کہ جاوید چوہدری کم سے کم قادر مندوخیل کو تو پیچھے ہٹاسکتے تھے۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی کہا کہ اگر لڑائی ہوگئی تھی تو ویڈیو منظرعام پر لانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اسکا مطلب ریٹنگ بڑھانا تھا؟ سوشل میڈیا صارفین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایکسپریس نیوز نے جو ویڈیو ریلیز کی ہے وہ نامکمل ہے ، مکمل ویڈیو سامنے لائی جائے۔

صحافی ملیحہ ہاشمی نے سوال کیا کہ کیا جاوید چوہدری صاحب کو خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہنا چاہئے تھا؟ یا صلح صفائی کروانی چاہئے تھی؟

گجر نے لکھا کہ لڑائ جاری تھی اور جاوید چوہدری انجوۓ کررہا تھا ریٹنگ کے چکر میں۔

سوشل میڈیا صارف عثمان  سرفراز ملک نے جاوید چوہدری کو پوری لڑائی کا ذمہ دار ٹھہرایا ، کہا کہ وہ صرف دیکھ رہے تھے۔

وقاص احمد خان نے کہا جاوید چوہدری اور ان جیسے دوسرے اینکر تھپڑ کے مستحق ہیں۔

بلال خان نے جاوید چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فردوس اور مندوخیل کی لڑائی میں جاوید چوہدری جان بوجھ کر لڑائی کروا کر دور رہ کر ویڈیو بنواتے رہےجاوید چوہدری کم سے کم قادر مندوخیل کو تو پیچھے ہٹاسکتے تھےمگرجاوید چوہدری کو معلوم تھا کہ ویڈیو بن رہی ہے اور وہ بنواتے رہے۔

صحافی ارم زعیم نے لکھا کہ اتنی بدزبانی اور بدتمیز ی شروع ہونے پر میزبان کو شو ہی کینسل کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن نہیں ۔۔۔مفت کا مصالحہ مل رہا تھا۔ اُس کے بعد صرف مندوخیل کو پھینٹی پڑھنے والا کلپ شئیر کرنا اور آپا کو پڑھی گالیاں اور غلیظ زبان کو وائرل نا کروانا بھی سمجھ سے باہر ہے۔

فرمان خان نے لکھا کہ جاوید چودھری صاحب جس طرح آپ یا آپ کی ٹیم نے وقفے کے دوران اُس لڑائی کا مخصوص حصہ دکھایا ہے میری گزارش ہے کہ باقی کا حصہ بھی عوام کو دکھائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ غلطی فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی تھی یا قادر مندوخیل نے غلیظ زبان استعمال کی صحافی ہونے کا مظاہرہ کریں ۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار نہ صرف فردوس عاشق اعوان اور قادرمندوخیل ہیں بلکہ جاوید چوہدری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔

ٹی وی شو پر سیاستدانوں کے رویئے اور لڑائی کے ساتھ ساتھ اینکر پرسن کے کردار کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے، صارفین نے اس اقدام کو ریٹنگ بڑھانے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا عمل قرار دیا، کہا لائم لائٹ میں رہنے کیلیے ایسے جھگڑوں کو مزید بڑھایا جاتا ہے۔

دیگر صارفین بھی معاملے پر تنقیدی اظہار خیال کررہے ہیں، گزشتہ روز اینکرجاوید چوہدری کے شو میں معاون خصوصی اطلاعات پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا،فردوس عاشق اعوان نے قادو مندوخیل کو تھپڑ مارا، جس پر فردوس اعوان نے کہا کہ پی پی رہنما نے ان کے خلاف فحش زبان استعمال کی،تصویر کا دوسرا رخ نہیں دکھایا جا رہا،انہوں نے نجی ٹی وی سے سے درخواست کی کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >