غریدہ فاروقی کا کلبھوشن یادیو کو این آراو دینے کا دعویٰ جھوٹ قرار

معروف صحافی غریدہ فاروقی کا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو این آر او دینے کا دعویٰ۔۔ عدالتی کاروائی کور کرنیوالے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے غریدہ فاروقی کو آئینہ دکھادیا

نیوزون کی صحافی غریدہ فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیلئے ریلیف کا آرڈیننس پی ٹی آئی حکومت نےآج قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں غریدہ فاروقی نے لکھا کہ . بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو این آر او۔ وہ بھی عمران خان حکومت کے ہاتھوں۔۔۔!!!؟

ایک اور ٹوئٹر پیغام میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیلئے این آر او !! کیا کلبھوشن یادیو کو چھوڑنے کی حکومتی تیاریاں ہیں؟

غریدہ فاروقی کے ان ٹویٹس پر جہاں سوشل میڈیا صارفین نے غریدہ فاروقی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کی کاروائی کور کرنیوالے صحافیوں نے غریدہ فاروقی کو جواب دیتے ہوئے اصل حقائق بتادئیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو سمیت مختلف کاروائیاں کور کرنیوالے صحافی ثاقب بشیر نے غریدہ فاروقی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جولائی 2020 سے آرڈینس کے سہارے جاری کارروائی سے متعلق آپ کو معلوم ہونا چاہیے جس کی قانونی سازی کی کوشش ہورہی ہے اس کا کسی طور بھی کلبھوشن کو چھوڑنے سے تعلق نہیں ۔

ثاقب بشیر نے مزید لکھا کہ پہلے دن سے کور کررہا ہوں یہ وہ کیس ہے جس میں پاکستان اپنے پتے بالکل صحیح کھیل رہا ہے

ایک اور ٹوئٹر پیغام میں ثاقب بشیر نے کہا کہ قانون سازی کا مقصد عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرانا ہے کیونکہ اگر پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عمل نہیں کرتا تو عالمی عدالت انصاف میں توہین عدالت دائر کرنے کے لیے انڈیا تیار بیٹھا ہے جس خدشے سے متعلق اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کو آگاہ بھی کیا ت

اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی کور کرنیوالے ایک اور صحافی فیاض محمود نے جواب دیا کہ پاکستان نے کلبھوشن کے معاملے پر بھارت کو باندھ کر رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت آج تک عدالتی کارروائی سے بھاگ رہا ہے۔ بھارت عدالتی کارروائی کا حصہ بنے یا بھاگے دونوں صورت میں پھنس چکا ہے۔۔ محترمہ نے رپورٹنگ کی ہوتی تو تجزیہ ایسا بے تکا نہ ہوتا

سماء کے صحافی سہیل رشید نے لکھا کہ فیلڈ ورک کے بغیر سنے سنائے پاپولر سیاسی جملے دہرا کر تجزیہ کار کا مقام پانے والے کاش آج سے ہی بات کرنے سے پہلے کم از کم متعلقہ رپورٹر سے ہی حقائق جاننے کا ارادہ کر لیں تو بعید نہیں اللہ ان کے قول میں برکت ڈال کر حقیقی تجزیہ کار کے عہدے پر فائز کر ہی دے۔

ڈاکٹر شہباز گل نے جواب دیا کہ یہ خبر غلط بیانی پر مشتمل ٹوسٹ ہے۔کلھبوشن کا کیس عالمی عدالت میں ہے۔عالمی عدالت میں پاکستان کے موقف کی جیت کے لئے یہ قانون سازی ضروری ہے اس لئیے یہ قانون سازی کی گئی۔

ڈاکٹر شہباز گل نے مزید کہ اکہ آپکی غلط بیانی بتائی جائے تو آپ ہراسمنٹ محسوس کرتے ہیں۔کیاکبھی جھوٹ بولتے ہوئے ہراسمنٹ یا ایمبرسمنٹ محسوس کی ؟

تجزیہ کار محمد فیصل نے غریدہ فاروقی کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ غریدہ خوف خدا کرو ۔۔ تم جانتی ہو کہ انٹرنشنل کورٹ آف جسٹس میں نواز شریف نے جو طریقہ کار مودی کے ساتھ ملکر اختیار کیا تھا اس سے ٹیکنیکل طور پر پاکستان کو پابند کردیا گیا تھا کہ وہ ICJ کی ہدایات کو فالو کرے یہ سب ایک طے شدہ منصوبہ کا حصہ تھا موجودہ حکومت کو اسے ماننا ہوگا

مختلف عدالتی کاروائیاں کور کرنیوالے رپورٹر عمران محمد نے لکھا کہ یہ بھی اینکرز ہیں ۔۔ جن کا کام یہ وہنا چاہئیے تھا کہ وہ بل کے بارے میں حقائق عوام کیلئے پیش کرتیں لیکن یہاں تو محترمہ اپوزیشن رہنما کے بیانات نقل کرکے آگے شیئر کررہی ہیں

شکیل نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ غلط بیانی نہ کریں بی بی ، یہ عالمی عدالت کے فیصلے کے روشنی میں کی جارہی ہے جہاں کیس دونوں فریق کے رضا مندی کے بغیر نہیں چل سکتی جس کی اجازت انڈیا کو میاں صاحب کی حکومت نے دی تھی۔

فرخ نامی سوشل میڈیا صارف نے غریدہ فاروقی پر طنز کی اکہ ماں صدقے ۔۔ اسیں وہی جرنلسٹ آں

ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ بی بی اتنا بڑی بات کر رہی ہو آپ۔۔ ٹائم بھی بتا دو یہ کب تک ہو جائے تاکہ اُس کے بعد تمہاری انگلش بھی ٹھیک کروا لیں ۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ اس طرح کے صحافی پاکستان میں انتشار پھیلانے کے خاص ایجنڈے پر ہیں، نواز شریف کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر ہی کیوں گیا تھا؟جسکے فیصلے کی وجہ سےآج پاکستانی حکومت پابند ہے۔

انیس خان نے لکھا کہ یہ خاتون ہمیشہ فیک نیوز پھیلاتی ہیں۔

واضح رہے کہ غریدہ فاروقی کو اس سے قبل بھی جعلی خبریں پھیلانے اور بغیر حقائق جانے خبریں شئیر کرنے یا پروگرام کرنے پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل غریدہ فاروقی مہمندڈیم پر پروگرام کرچکی ہیں جس پر انہیں سپریم کورٹ میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے غریدہ فاروقی سے پیپرا کا مطلب پوچھا لیکن غریدہ فاروقی جواب نہ دے پائیں۔

  • لوگ غریدہ فاروقی کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ این آر او والا قانون بطور آرڈیننس پہلے ہی جاری ہوچکا ہے اب حکومت اس کی اسمبلی سے توثیق چاہتی ہے

  • غلیظہ گشتی نے اپنئ ماں کے یار اور اپنے یار شہباز شریف کو خوش کرنے کو پچھواڑے سے بھونکا تھا اس غلیظہ گشتی کے پچھواڑے میں جھوٹ گھس گیا۔ گشتی فراری اور یہ اپنا اور ماں کا یار ایک ہی بندہ رکھتی ہیں بقول رانا ثنا اللہ کیپٹن صفدر ماں بیٹی دونوں کا یار دونوں کے ساتھ ڈبل شفٹ لگاتا تھا غلیظہ نے بھئ جوکر اعلئی کو ایسے ہی رکھا ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >