گالی پنجاب کا کلچر؟شیخ روحیل اصغر کے بیان پر سوشل میڈیا پر سخت ری ایکشن

شیخ روحیل اصغر نے دعویٰ کیا ہے کہ گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا شیخ روحیل اصغر کے بیان پر سخت ردعمل

گزشتہ روز ہلڑ بازی پر شیخ روحیل اصغر پر قومی اسمبلی داخلے پر پابندی لگ گئی۔ شیخ روحیل اصغر جب پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کیلئے آئے تو سیکیورٹی سٹاف نے انہیں روک لیا جس پر شیخ روحیل اصغر نے سیکیورٹی سٹاف سے بحث کی اور بعدازاں باہر آگئے۔

باہر ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے روحیل اصغر نے کہا کہ گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ یہ جو گالی ہوتی ہے ، یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طرح لیتے ہیں۔

صحافی کے مزید استفسار پر شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ہوتا ہے بندہ غصے میں آکر گالی دیدیتا ہے۔

شیخ روحیل اصغر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے اور نہ کبھی کلچر رہا ہے، یہ ن لیگ کا کلچر ہوسکتا ہے۔ کردارکشی، گالم گلوچ ن لیگ کی روایت رہی ہے سب جانتے ہیں کہ یہ بے نظیر اور عمران خان کی اہلیہ سے متعلق کس قسم کی زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ ایک طرف پنجاب کارڈ کھیلتی ہے اور دوسری طرف ایسی ہی باتیں کرکے پنجاب کی عوام کی توہین کرتی ہے۔

فوکل پرسن وزیراعلیٰ پنجاب اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ شیخ روحیل کہتے ہیں کہ گالیاں دینا پنجاب کا کلچر ہے۔ یہ بندہ 30 سال سے نون لیگ کا MNA ہے اور نواز شریف اور مریم نواز کا چہیتا ہے۔

صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ گالی دینا پنجاب کا کبھی کلچر تھا اور نہ ہوگا، ہاں البتہ پارلیمنٹ میں گالی اور دھینگا مشتی کا کلچر PTI کے پارلیمنٹ میں جانے سے پہلے ہی ن لیگ متعارف کروا چکی ہے۔

معروف صحافی ملیحہ ہاشمی نے لکھا کہ شیخ روحیل اصغر فرما رہےہیں کہ گالیاں دینا پنجابی کلچر ہے لہٰذا وہ غلیظ گالیاں دینےپر شرمندہ نہیں۔ کیا یہ ن لیگ کا پارٹی مؤقف ہے؟ کیونکہ بےنظیر بھٹو سے شروع ہو کر تمام سیاسی مخالف خواتین پر حملے کیے گئے۔ ملیکہ کی آنکھ زخمی کی، طلال چوہدری بھی تنظیم سازی سے پہلے تک زبان دراز رہے۔

صحافی طارق متین نے تبصرہ کیا کہ گالی دینا کلچر نہیں ۔ کلچر میں سے کاف نکالیں تو بنتا ہے "لچر” گالی دینا لچر پن ہے۔ اسے پنجاب سندھ بلوچستان خیبرپختونخوا یا کسی بھی حصے سے جوڑنا غلط ہے۔ جو بھی گالی دے وہ غلط ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔

اینکر پرسن اجمل جامی نے کہا کہ آپ کے ہاں یہ ضرور کلچر ہوگا، پنجاب یا کسی اور صوبے کی سنہری روایات میں البتہ یہ کسی طور کلچر نہیں، گالی کلچر ہو ہی نہیں سکتی، کلچر تو وہ شے ہے جسے آپ فخر کیساتھ اوڑھ سکیں، دکھا سکیں، پیش کر سکیں۔ افسوس صد افسوس۔۔!! گالی دینا بیماری ھے اور گالی جسٹیفائی کرنا بیمار ذہن کی علامت۔

ڈاکٹر نبیل نے تبصرہ کیا کہ روحیل اصغر نے آج گالیوں کو پنجاب کا کلچر کہہ کر پنجاب اور پنجابیوں کو سب کے سامنے رسوا کردیا اس ذہنی مریض کا مزید پنجاب میں رہنا پنجابیوں کی توہین ہے یہ پہلاموقع نہیں کہ ن لیگ نے پنجابیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا چند ماہ پہلے لاہور PDM جلسے اچکزئی کے ذریعے بھی پنجاب کی تضحیک کروائی گئی ۔

محمد اکرم کا کہنا تھا کہ اگر یہ بیان ن لیگی رکن اسمبلی کی بجائے کسی انصافی رکن اسمبلی نے دیا ہوتا تو پنجاب کارڈ کھیلنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرنے والے نواز شریف پھر یہ نعرہ بلند کر چکے ہوتے :۔ جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ

احمد ندیم نے تبصرہ کیا کہ گالیاں دینا پنجاب کے دیہات کا کلچر بھی نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں میں کم سے کم میرے خاندان کے گھرانوں میں کبھی گالیاں سننے کو نہیں ملیں۔ بس بات یہ ہے کہ ساری بات روایات اور گھریلو تربیت کی ہوتی ہے۔ یہ جس قسم کی زبان روحیل اصغر استعمال کرتا ہے، یہ صاف بتاتی ہے کہ اس کی تربیت ہی بری ہوئی ہے۔

تحریک انصاف کے سابق ٹکٹ ہولڈر سکندر فیاض بھڈیرا نے روحیل اصغر کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ علی اعوان کل سے اپنے غلط رویہ پر شرمندہ ہے۔ بار بار کہہ رہا کی جو اس نے کیا وہ کسی طور درست نہیں اور وہ اس پر نادم ہے۔ کہتا ہے کہ اسکا رویہ کسی طور جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا۔ روحیل اصغر، جس نے سب شروع کیا، وہ کہتا ہے گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے۔

بلاگر انورلودھی نے لکھا کہ روحیل اصغر کا بیان قابل مذمت ہے. ن لیگ والے ایسے غیر اخلاقی کاموں کو جسٹیفائی کرتے رہے تو کل کلاں کو یہ بھی کہہ دیں گے کہ لوٹ مار بھی پنجاب کا کلچر ہے۔

معروف شاعرہ نوشی گیلانی نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ صوفیائے کرام ، اولیائے کرام ، بابا بُلھا شاہ جی ، حضرت شاہ حُسین کی اس سرزمین پنجاب کے بارے میں یہ بےضمیر کہہ رہا ہے کہ “گالی” پنجاب کا کلچر ہے۔ بدبخت جہالت کے بھی کتنے چہرے ہیں۔

  • روحیل اصغر چونکہ ہیرا منڈی لاہور کی پیدائش ہے، اس کے سب گھر والے اور والیاں ایک دوسرے کو خوب ماں بہن کی گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ لہازہ اس طوائف زادے کے گھر کا یہ کلچر ہے۔

  • گالی دینا پنجاب کا کلچر نہی ہاں گالی دینا روحیل اصغر کے گھر کی روایت ضرور ہو سکتی ہے۔ جو کچھ بچپن میں اسنے اپنے باپ کو کرتے دیکھا آج خود بھی وہی کرکے اسکو کلچر کا نام دے رہا ہے۔

  • اس گشتی کی اولاد ماجھے سکھ کے ناجائیز نطفے کو اپنی گھر کے کلچر اور پنجاب کے کلچر کا فرق نہیں معلوم
    یہ کوٹھے والا کنجر اپنے گھر کے کلچر کو پنجاب کا کلچر سمجھ رہا ہے

    • Yeah Punjab ka ne srif be ghrat Roheel kay gher oor PLM N ka culture ha.
      Last year be Javid Latef pLM N kay MNA nay murad saeed ko parliament main bhen ke ghalyain de theen

  • wonderful!!
    Sarryal khabees, khota beh —-, haram—– Rohail Asghar! jis ka leader bhe badmaash, khooni, dako jhoota, Leader key baitee sazayafta jhooti, baigharat, .
    Chalo shukar hai in kay culture ka hisaab say ab to rox izzat karain gay!!

  • He is a barking dog. His father Sheikh Asghar and his brother Shakeel Asghar was murdered by Maja shek party. He can’t do any thing. To save himself he apologies and settle with them.
    Barking Dog of Shalimar Lahore


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >