خواتین کے لباس اور پردہ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا بیان سوشل میڈیا پر زیربحث

وزیراعظم عمران خان فحاشی سے متعلق بیان پر ایک بار پھر تنقید کی زد میں۔۔ لبرل طبقہ کی وزیراعظم عمران خان پر تنقید۔۔۔ سوشل میڈیا صارفین اور حامیوں کے وزیراعظم کے بیان کے حق میں دلائل

امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو سوائے روبوٹ کے مردوں پر اثر تو پڑے گا۔

ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں کے واقعات پر سوال پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے کبھی نہیں کہا عورتیں برقعہ پہنیں، عورت کے پردے کا تصور یہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے معاشرے کے لیے مضمرات ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو لامحالہ اس سے مرد پر اثر پڑے گا الا یہ کہ وہ روبوٹ ہو، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر مذہب پسند طبقے اور لبرل طبقے کی جانب سے ردعمل دیکھنے کو ملا۔دونوں اطراف کی جانب سے مختصر لباس اور پردے کے حق اور مخالفت میں دلائل سامنے آیا۔۔ لبرل طبقے سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے ریپ کی وجہ لباس کو ٹھہرایا ہے۔

عاطف توقیر نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ایک ملک جہاں وزیراعظم ریپ کی وجہ خواتین کے لباس کو قرار دے، اس ملک میں ریپ کی وجہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہونا چاہیے۔

ریما عمر نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر مایوسی کا اظہار کیا اور اسے شرمناک قرار دیا۔

کامیڈین شفاعت نے کہا کہ ویسے تو اس ملک میں مرغیاں، کتے، گدھے، بلیاں، بطخیں، گائے، بچے، لڑکے، داڑھی، بغیر داڈھی مرد، بچیاں حتی کہ مردے بھی ریپ سے محفوظ نہیں ہیں مگر پھر بھی ریپ کی وجہ خواتین کا لباس ہے۔ ریپ کرنے والا جانور بے گناہ ہے۔ تف ہے ایسی سوچ پہ

تنزیلہ مظہر کا کہنا تھا کہ اس ملک میں چادر والی عبایا والی، برقعے والی، نقاب والی، شراب والی ، فیشن والی پر عورت کو ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر عورت اس معاشرے میں غیر محفوظ ہے رات دو بجے یا دن میں دو بجے اکیلی کسی بھیڑیے کے ہاتھ لگے تو برباد ہو جاتی ہے ۔یہاں تک کہ عورت گھر کے اندر بھی غیر محفوظ ہے

لیکن دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے حق میں دلائل دینے والوں کا کہنا تھا کہ پردے کا حکم اسلام نے دیا ہے۔ اسلام نے صرف عورت کو پردہ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ مرد کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان سوشل میڈیا صارفین نے مشورہ دیا کہ بغض عمران میں بنیادی اسلامی تعلیمات کے انکار سے اجتناب کریں۔

اینکر نادیہ مرزا کا کہنا تھا کہ عورت کے لباس کو لیکر وزیراعظم کے بیان پر ایکبار پھر اسکے حق میں اور مخالفت میں بحث جاری ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے لباس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو اسلام میں مرد کو نظر نیچے رکھنے کے احکامات کے باوجود عورت کے پردے کا حکم کیوں ہے؟

بلاگر انورلودھی نے تبصرہ کیا کہ پردہ عمران کا نہیں قرآن کا حکم ہے اور "اسلامی جمہوریہ پاکستان” کا وزیراعظم قرآن کے حکم کے مطابق ہی بات کرے گا

علی رضا نے لکھا کہ اسلام میں شراب سے لے کر بے پردہ تک پابندی ایسے ہی نہیں ہے، ہر چیز میں حکمت ہے۔

وقاص صدیقی نے تبصرہ کیا کہ عمران خان کے سٹرونگ اور سولڈ ویوز ہیں ہر سبجیکٹ پر اور وہ کھل کر اسکا مدلل اظہار بھی کرتا ہے۔ اسی لیے critics ریسپونڈ بھی کرتے ہیں۔ ورنہ نواز شریف کی طرح آاا باااا کرکے، ٹ** کھرک کے انٹرویو دےدو۔ نا کسی کو کچھ سمجھ آئے نا کوئی اس پر بات کرنے جوگا ہو۔

انصار عباسی نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر پردے کے حق میں بات کی اور فحاشی کے خلاف بولے تو دیسی لبرلز کا ایک طبقہ بھڑک اُٹھا۔

ملیحہ ہاشمی نے عمران خان کے بیان پر تنقید کرنیوالوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ خان کےفحاشی مخالف بیان پر چیخنےوالیوں کی دوبارہ Harassment ہو گئی۔

سالارسلطانزئی نے تبصرہ کیا کہ بغض عمران میں بنیادی اسلامی تعلیمات کے انکار سے اجتناب کریں۔

سعادت یونس کا لکھنا تھا کہ تمام صحافتی خواتین پردہ نہیں کرتیں وہ کسی صورت عمران خان کے حجاب پردے والی بات کی تائد کریں گی انہوں نے تنقید ہی کرنی ہے۔ منہ کُھل گئے ہیں انکے

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان مدینہ کے طرز کی ریاست کی بات کرتے ہیں، غریب کی بات کرتے ہیں، غیرت سے جینے کی بات کرتے ہیں اور اسلام کے بتائے ہوئے احکامات کی بات کرتے ہیں جیسے پردہ مغربی لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے سمجھ میں آتا ہے پاکستانی سیاست دانوں سمیت فضل الرحمان جیسے لوگوں کی تکلیف

بینش کا کہنا تھا کہ سیدھی سی بات ہے اسلام میں عورت کو پردے کا حکم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے صرف یہ کہا ہے کہ ریپس بڑھنے کی ایک وجہ عورتوں کا پردہ نہ کرنا بھی ہے۔ اس میں ایسی کیا غلط بات ہے؟؟ اب اتنی سی بات پہ خونی لبرلز کو مرچیں کیوں لگ رہی ہیں؟؟ انکی تکلیف میری تو سمجھ سے باہر ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >