ناراض بلوچوں سے مذاکرات، طلعت حسین کا طنز ، سرفراز بگٹی نے کھری کھری سنادیں

طلعت حسین کا وزیراعظم سے بغض؟ تنقید برائے تنقید کے چکر میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے بڑے اعلان کو بھی نہ چھوڑا۔۔ سرفراز بگٹی نے طلعت حسین کو کھری کھری سنادیں۔

کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان نےگوادر میں کہا کہ ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا۔ الیکشن جیتنے کیلئے لوگ بلوچستان میں آتے رہے اب ایسا نہیں ہوگا میری ترجیح الیکشن جیتنا نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے، بلوچستان کے ناراض لوگوں سے بات کرنے کا سوچ رہا ہوں ۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ۔ بدقسمتی سے ماضی میں کسی نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ نہیں دی۔ بلوچستان سے وفاق اور سیاستدانوں نے انصاف نہیں کیا ہماری حکومت نے بلوچستان کو سب سے بڑا پیکیج دیا جو پاکستان کو سوچے گا وہ بلوچستان کا ضرور سوچے گا۔ بلوچستان کا احساس محرومی ختم کریں گے ۔ سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔ بلوچستان میں تھری اور فور جی متعارف کرائیں گے۔ بلوچستان میں ترقی کیلئے امن ضروری ہے، بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کے خاتمے کیلئے ریکارڈ ترقیاتی پیکیج دیا۔

ناراض بلوچوں سے بات چیت کیلئے وزیراعظم عمران خان نے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی برائے بلوچستان ہم آہنگی مقرر کیا اور انہیں ناراض بلوچوں سے بات چیت کا ٹاسک دیا۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نے بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور سینیٹر انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کی ۔ جس میں ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ۔ملاقات میں حکومت کے ترقیاتی پیکیج اور عام آدمی پر اس کے مثبت اثرات پر بات ہوئی۔

وزیر اعظم کا ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے معاملے پر سرفراز بگٹی کو طلب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پچھلے دور حکومت میں جب سرفراز بگٹی وزیرداخلہ بلوچستان تھے تو انہوں نے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اپنے طور پر کوششیں کی اور انکی وجہ سے بہت سے ناراض بلوچ اسلحہ پھینک کر قومی دھارے کا حصہ بنے ۔

وزیراعظم عمران خان سے سرفراز بگٹی کی ملاقات غالبا طلعت حسین کو ایک انکھ نہ بھائی اور غیرسنجیدہ قسم کا ٹویٹ کرڈالا۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی اگر پریشان ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ ان کو پتا ہے کہ “ناراض بلوچوں” سے بات چیت ان کے لئے کیسی مشکل صورتحال بنا رہی ہے۔ اور ابھی تو آغاز ہے۔ آگے تو بہت کچھ ہونے والا ہے۔

اس پر سرفراز بگٹی نے طلعت حسین کو جواب دیا کہ طلعت صاحب، یوٹیوب چینل چلانے اور ریاست چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے. "ناراض بلوچوں” سے بات چیت سے پریشانی ان کو ہو جو ریاست کے لیے نہیں مفادات کے لئے سیاست کرتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ہم نے ریاست کے لیے وہ قربانیاں دی ہیں جو واجب بھی نہ تھی ہم پر!

طلعت حسین کے ٹویٹ پر مختلف سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل بھی دیکھنے کو ملا عنیب مصطفیٰ نے کہا کہ صحافت سے لوگوں نے عزت کمائی لیکن چند ایسے مفاد پرست مطلبی اور بے شعور صحافی بھی ہوئے جنھوں نے صرف ذلالت کمائی طلعت حسین ان میں سے ایک ہے

صادق بگٹی نے لکھا کہ جب سرفراز بگٹی کے کندھوں پر اسکے پیاروں کے 365 لاش رکھے گئے، جب انکی جان پر کئی بار حملے کئے گئے، تب پریشان نہیں ہوئے، اب جو لوگ ریاست کے سامنے ہتھیار پھنک کر جھکنے جارہے ہیں ان کے آنے سے پریشان ہونگے؟


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>