آزادکشمیر فوٹوشاپڈ تصویرشئیر کرنیوالی مریم نواز کا فوٹوشاپ سے رشتہ کتنا پرانا؟

گزشتہ روز مریم نواز نے مبینہ طور پر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کی جسے اس نے کچھ ہی دیر بعد ڈیلیٹ کردیا۔

اس ٹویٹ میں ایک طرف مریم نواز کی تو دوسری طرف نوازشریف کی تصویر ہے۔مریم نواز نے مبینہ تصویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ کشمیر سے رشتہ بہت پرانا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کا پوسٹمارٹم کیا تو مریم نواز کے ٹوئٹر ہینڈلر نے مبینہ طور پر فورا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیالیکن سوشل میڈیا صارفین نے سکرین شاٹ محفوظ کرلیا۔

تصویر میں مریم نواز اور نوازشریف آزادکشمیر میں ہیں جبکہ دونوں تصاویر میں درخت، پتے، جھاڑیاں، پانی کا بہاؤ، زمین کی رنگت ایک جیسے ہیں۔ نوازشریف کی جو تصویر استعمال کی گئی وہ دراصل لندن کی تھی جو نوازشریف نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک ورکر کیساتھ بنوائی تھی۔

مریم نواز کے ٹویٹ کا سکرین شاٹ شئیر کرتے ہوئے شہبازگل نے مریم نواز پر طنز کیا کہ میاں صاحب جب سے اس مقام سے ہلے شائد وقت بھی ٹھہر گیا کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا- ایک پتہ بھی نیا نہیں پھوٹا۔

مریم نواز پر طنزیہ وار کرتے ہوئے شہباز گل نے مزید کہا کہ کمال ہے جعلسازی میں مقام ہے محترمہ کا ٹرسٹ ڈیڈ جعلی، قطری خط جعلی، کیلبری فونٹ جعلی، انقلاب جعلی اور کشمیر سے محبت بھی جعلی محترمہ صرف اس وقت سچ بولتی ہیں

مریم نواز نے فوٹوشاپڈ تصویر پہلی بار شئیر نہیں کی، اس سے پہلے بھی ایسی ہی فوٹوشاپڈ تصاویر شئیر کرنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر طنز وتنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔

سال 2020 کے آخر میں لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا یہ جلسہ بری طرح ناکام ہوا ، مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم نے جلسے کو بڑا دکھانے کیلئے فوٹوشاپ کا سہارا لیا لیکن سوشل میڈیا صارفین کی تیز آنکھ نے بھانپ لیا کہ یہ تصویر ہی فوٹوشاپڈ ہے۔

اس تصویر میں سرخ رنگ کے جھنڈے ایک ہی شکل اور انداز میں بار بار دکھائے گئے جبکہ ن لیگ کا جھنڈا صرف سبز ہے۔ اس وقت ڈاکٹر شہبازگل اور حماداظہر نے مریم نواز کی طرف سے جاری کردہ فوٹوشاپڈ تصویر پر خوب طنز کے تیر برسائے تھے۔

سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم نے جلسے کو بڑا دکھانے تحریک انصاف کے جلسے کی تصویر بھی چپکادی ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ مریم نواز کے گزشتہ روز ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کو قطری خط اور کیلبری فونٹ بھی یاددلادیا۔ مریم نواز کے وکلاء نے نوازشریف نااہلی کیس میں مریم نواز کی ایک ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی جو کیلبری فونٹ سے ٹائپ تھی اور اس پر تاریخ 2006 درج تھی جبکہ 2006 میں کیلبری فونٹ کاآیا ہی نہیں تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >