ارشد شریف کا صدیق جان پر حملہ،شہباز گل اور صدیق جان سوشل میڈیا پر آمنے سامنے

ارشد شریف کا صدیق جان پر حملہ،شہباز گل اور صدیق جان سوشل میڈیا پر آمنے سامنے

ارشد شریف کے ساتھیوں سمیت  نوجوان صحافی صدیق جان پر حملے کے 16 روز بعد وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی  شہباز گل کا پہلی بار رد عمل سامنے آ گیا۔ شہباز گل نے ارشد شریف کی مذمت سے گریز کرتے ہوئے اسے صحافیوں کا زاتی مسئلہ قرار دے دیا۔

تفصیل کے مطابق شہباز گل نے سندھ میں صحافی کی گرفتاری پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ "اور یہ صحافی اب گرفتار ہو چکا ہے، ہراسمنٹ گروپ شائد عید منانے میں مصروف ہے اس لئے سوشل میڈیا پر ان کے حق میں کوئی آہ و بکا نہیں ملے گی۔ یہ اس صوبے میں ہو رہا ہے جس کی حکمران جماعت کے پرچی لیڈر کے پاس ہراسمنٹ گروپ داد رسی کے لیے پڑاؤ ڈالتا ہے”۔

شہباز گل کے ٹویٹ پر صحافی صدیق جان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہبازگل صاحب صرف اس صحافی پرحملے کی مذمت کرتےہیں جس صحافی کےحملہ آور ان کےذاتی دوست نہ ہوں، اگر حملہ آور غنڈے ان کےدوست ہوں، ان کا شہباز گل صاحب کو مشہور کرنے میں کردار ہو تو گل صاحب نہ صرف مذمت نہیں کرتے، حملہ آوروں کو ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں بلکہ ان کوپروٹوکول بھی دیتے ہیں۔

صدیق جان نے مزید کہا کہ "حیران کن طور پروہ شہباز گل صاحب جوٹویٹرپر سنبھالےنہیں جاتے، وہ 2 اینکرز کےخلاف کبھی کوئی ٹویٹ نہیں کرتے، چاہےوہ دو اینکرز وزیراعظم عمران خان پر جتنےبھی ذاتی حملےکریں، گھٹیا الزامات لگائیں ، ان دواینکرز کا نام جانتے ہیں آپ؟؟ پی ٹی آئی کے خلاف آجکل سب سےزیادہ پروگرام بھی وہی کرتےہیں”۔

صدیق جان کے اس بیان پر شہباز گل پہلی مرتبہ گوادر واقعہ کے بعد میدان میں آئے اور انہوں نے کہا کہ”دوست جب آپ نے ارشد صاحب کے بارے پرسنل وی لاگ کیا تو نہ آپ نے مجھ سے پوچھا اور نہ ہی لڑائی سے پہلے ارشد صاحب نے پوچھا یا بتایا۔ نہ میں وہاں موجود تھا۔نہ ہی میں آپ دونوں کا میزبان تھا۔ دو صحافیوں کا زاتی معاملہ ہے۔وزیراعظم کا ترجمان کیوں پارٹی بنے؟ ہاں میں صلح کروانے کے لئے حاضر ہوں”۔

شہباز گل نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ آپ بار بار مجھے اٹیک کرتے ہیں۔اس کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ اگر میں واقعہ کہ وقت وہاں موجود ہوتا یا مجھے اس کا پتہ ہوتا اور میں پھر کچھ نہ کرتا تو آپ کا اعتراض سمجھ میں آتا۔لیکن اگر میرے پر غصہ نکال کر آپ خوش ہوتے ہیں تو یہ بھی سہی۔

شہباز گل کے دعوے پر صدیق جان نے جواب دیتے ہوئے کہا "آپ مجھے اس پرسنل وی لاگ کا لنک بھیج سکتے ہیں؟ جس میں آپ کے مطابق میں نے ارشد صاحب پر اٹیک کیا؟ اگر حملہ آور کوئی اور ہوتا تو آپ نے اسلام آباد پہنچنے تک ان کو جس طرح پروٹوکول دیا اسی طرح پروٹوکول دیتے؟ اور ہاں.. لڑائی دو طرفہ ہوتی ہے، یکطرفہ اٹیک کو حملہ کہتے ہیں گل صاحب”۔

  • گوادر واقعے سے قطع نظر، میں نے ماضی میں صدیق جان کو بہت سے وی لاگز میں شہباز گِل کو تنقید کا نشانہ بناتے دیکھا ہے، بہت مرتبہ اشاروں کنایوں میں اور بہت مرتبہ صاف نام لے کر

    اکثر شہباز گل پر ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کا الزام، ہر بات پر ٹویٹ کرنے پر تنقید، ٹی وی چینلز کو بول کر اپنے نام کی خبروں اور بیپرز چلوانے کا الزام

    شاید ہی صدیق جان نے کسی اور شخص کو نام لے کر اتنا ٹارگٹ کیا ہو جتنا شہباز گل کو کیا ہے، معلوم نہیں کیا مخاصمت ہے

    اسی لیے شہباز گل نے بھی اس بات کا شکوہ اپنے اس ٹویٹ میں کیا ہے

    یہ بھی زیادتی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >