ڈاکٹر شاہد مسعود کے یوٹیوبرز اور اسٹیبلشمنٹ سے متعلق دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام کے دوران تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم سے متعلق دعویٰ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام کے دوران کہا کہ ایوان وزیراعظم میں بیٹھے یہ بچے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کیا کچھ کررہے ہیں؟ یہ کون سے ہیش ٹیگز چلارہے ہیں، غدار میڈیا، فلاں چور فلاں ڈاکو، آپ کو کیا لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ کو یہ سب نظر نہیں آرہا؟

انہوں نے کہا کہ یہ سارے بچے جو یوٹیوب ویڈیوز بناتے ہیں ان کی فائلیں بن رہی ہیں میری اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں سے بات ہوئی ہے وہ کہتے ہیں ذرا تحریک انصاف حکومت کو ادھر ادھر ہونے دیں پھر دیکھیئے ان سب کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے اس تجریہ پر سوشل میڈیا صارفین نے تبصرے شروع کردیئے ہیں، صدیق جان نے اس تجزیے پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2023 کےبعد ڈاکٹرارسلان خالد،عمران غزالی ،اظہر مشوانی اوردیگر دوستوں کوجیل ملنےجانا پڑےگا؟؟۔

انہوں نے کہا کہ اگراڈیالہ میں ہوےتو بہت مشکل ہوگی کیونکہ اڈیالہ کی طرف جانےوالی سڑکوں پر بہت رش ہوتا ہے، پورا دن برباد ہوجاتا ہے لیکن دوست ہیں آخر جانا تو پڑے گا۔

صحافی عمران اے راجا نے کہا کہ زرداری دور حکومت میں ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۳ تک ڈاکٹر شاھد مسعود کا کوئی پروگرام دیکھ لیجیے آپ کو ایک ہی جملے کی رٹ سنائی دے گی “فائلیں بن چکی ہیں، نام لکھے جا چکے ہیں، یہ بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر ایئرپورٹ سے گرفتار ہوجائیں گے”۔۔

انہوں نے ڈاکٹر شاہد مسعود پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاھد مسعود کا صحافت سے وہی تعلق ہے جو مریم کا سیاست سے۔۔

صحافی اویس سلیم نے کہا کہ اگر شاہد مسعود صاحب بھی سوشل میڈیا بریگیڈ سے تنگ ہیں تو سوچئے باقیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہو گا۔

احمد ندیم نامی صارف نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ بولتے رہنے سے منہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے، یہ ڈاکٹر قیامت مسعود کا تو نہیں ہوتا؟

انہوں نےڈاکٹر شاہد مسعود کے انداز صحافت پر تنقید کرتے ہوئے کہ یہ بندہ تو کب کب سے نظام الٹ جانے، قیامت آ جانے کی پیشنگوئیاں کر رہا ہے- نہ قیامت آ رہی ہے نہ ہی نظام الٹ رہا ہے۔

شاہد میتلا اور صحافی عبدالقادر نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے تجزیے کو مضحکہ خیز قرار دیا

سیدہ المسلمہ کا کہنا تھا کہ یہ دھمکی آمیز الفاظ کہتے ہوئے شاہد مسعود کو آزادئ اظہار کے اسباق یاد نہیں رہے مین اسٹریم صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹس سے مسئلہ اسلئے ہے کیونکہ انکا چورن اب کوئی خرید نہیں رہا،

انہوں نے مزید کہا کہ ریٹنگز ڈاؤن چل رہی ہوں تو فرسٹریشن بنتی ہے کوئہ انکو بتادے کہ اسٹیبلشمنٹ کے لارے بھی اب نہیں چلنے۔

عنبرین نے کہا کہ یہ حال کر دیا ہے ڈیجیٹل میڈیا کے لوگوں نے کے ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں پرانے لوگ، نا ان کی کوئی سنتا، نا اہمیت رہی حامد میر یا شاہد مسعود جیسے ذہنی مریضوں کی اس جاہلانہ بات پر روئیں اس کی عقل پر یا ہنسیں اس کامیڈی پر۔

  • Why would military do anything against PTI’s social media members when they are already serving military’s goals, even more than ISPR? They defend military more than ISPR. They criticise SC judges more than ISPR. They launched mega campaigns against Justice Faez Esa and Justice Shaukat Siddiqui. If military punishes these ‘kids’ despite these service, no one will speak in favour of military in future.

  • The social media has served the country the most. Mafias like channels which can be influenced or bought. It is not easy to control social media as there are millions on social media as against few channels and newspapers. Superpowers and Jewish media is also being exposed by social media. Long live internet warriors as most of them are freelancers and patriotic young people.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >