”جسٹس فار نور “ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

نور مقدم کے بیہمانہ قتل پر سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس وقت جسٹس فار نور پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

نورمقدم سابق سفارتکار شوکت مقدم کی صاحبزادی ہیں اور انہیں ایک کاروباری شخص ظاہر جعفر نے گلاکاٹ کر قتل کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے ظاہر جعفر کو گرفتار کرلیا۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قتل میں ممکنہ طور پر ملوث ظاہر جعفر نامی شخص کو موقع واردات سے گرفتار کرکے تھانہ منتقل کردیاگیا۔

نورمقدم کے قتل سے متعلق چونکا دینےو الے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ ظاہرجعفر کو ذہنی طور پر بیمار ظاہر کرکے بچانے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ ملزم ظاہر جعفر برطانیہ میں بھی کریمنل ریکارڈ رکھتا ہے اور اسے برطانیہ میں اپنی والدہ اور بھائی پر تشدد کے جرم میں 3 ماہ جیل کی سزا ہوچکی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسا رویہ سامنے آنے پر کچھ صارفین نے برہمی کا اظہار کیا ہے کہ آخر کیوں کوئی کوشش کر رہا ہے کہ ایک قاتل کو ذہنی بیمار شخص قرار دے کر اسے سخت سزا سے بچایا جائے۔ زہرہ حیدر نامی صارف نے کہا کہ قتل کے الزام کے بعد اس کی بیماری کو بنیاد بنانا غلط اور بے معنی ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ اس نے جذباتی ہو کر اقدام اٹھایا آخر کار اس کا جرم بہت بڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک مجرم ہے جو کہ جرم کرنے کے بعد ملک چھوڑ کر فرار ہونے والا تھا مگر اسے پکڑ لیا گیا ہے۔

کچھ روز قبل عیدالاضحیٰ کے روز جسٹس فار نور ٹاپ ٹرینڈ تھا لیکن آج پھر جسٹس فار نور ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا صارفین نورمقدم کیلئے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں تو دوسری طرف سابق سفیروں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف فارمر ایمبیسڈرز نے نور مقدم کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کا خیر مقدم کیا اور قاتل کو مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اس واقعے کی سختی سے مذمت کی اور نورمقدم کے والد سے رابطہ کرکے اظہار افسوس بھی کیا۔

سابق سفیروں کی تنظیم میں شامل سو سے زائد سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نور مقدم قتل کیس میں انصاف دلائیں۔

نور مقدم کے قتل کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا ’یہ ایک خوفناک یاد دہانی کہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ انھیں کسی سزا کے ڈر کے بغیر قتل بھی کیا جاتا رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ اب یہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور جن ملزمان کے پاس اثر و رسوخ اور طاقت ہے وہ بازیاب نہ ہو سکیں۔‘

https://twitter.com/ofshahanajan/status/1417713262909591554?ref_src=twsrc%5Etfw

’وزارتِ انسانی حقوق پولیس سے رابطے میں ہے اورہم نور کے خاندان کے ساتھ ہیں اور انھیں جو مدد بھی درکار ہو گی ہم فراہم کریں گے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے جس کرب اور درد سے یہ خاندان گزر رہا ہے۔‘

سعد نامی صارف نے لکھا کہ ’ ہمارا معاشرہ اتنا گل سڑھ گیا ہے کہ عورت پر صرف اس وقت یقین کرتے ہیں جب ان کی لاش ہو۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ خواتین شہری علاقوں میں زہریلی مردانگی کا شکار نہیں ہوتے تو انہیں دوبارہ سوچنا چاہیے۔ ان کا گلا بریک اپ کی وجہ سے کاٹا گیا۔ میرے پاس الفاظ نہیں۔ ‘

صحافی شفاء یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسا نظام موثر ، شفاف ، منصفانہ اور تیز رفتار کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی سوشل میڈیا مہم کے بغیر بھی متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے قابل ہو۔ یہ وہ قسم ہے جس کی پاکستان میں خواہش ہے۔ ایک ایسا نظام جو سوشل میڈیا کے متحرک ہونے سے پہلے ہی رد عمل ظاہر کرتا ہو، یہی ہے ہمارا مقصد ، جو ہونا چاہئے

حمزہ اظہر نے خبردی کہ اسلام آباد پولیس نے ظاہر جعفر کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ نورمقدم کے قتل کیس کی تحقیقات اور مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان سے فرار نہ ہوسکے۔

متانت نے تبصرہ کیا کہ افسوس اس بات کا نہیں کہ کیا ہو رہا ہے افسوس اس بات کا ہے کہ سمجھدار اور قابل ترین لوگوں سے یہ کیا ہو رہا ہے۔

طلحہ خانزادہ نے ایک شعر لکھا کہ ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں ۔۔۔ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں۔

پی پی کی سینیٹر شیری رحمان نے تبصرہ کیا کہ یہ ایک خوفناک ، بہیمانہ قتل ہے ، اور اس کے بارے میں کوئی تعبیر یا وضاحت نہیں ہوسکتی ہے۔ لازمی طور پر نور اور دیگر لڑکیوں کیساتھ انصاف ہونا چاہئے جن پر یہ ظلم ہوا ہے۔

ذاکربلوچ نے ظاہر جعفر جیسے درندروں کیلئے پھانسی کا مطالبہ کیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >