بٹوہ واپس کرنے کی دلچسپ کہانی،پاکستانی غازی نے بھارتی راہول کو ڈھونڈ نکالا

 بٹوہ واپس کرنے کی دلچسپ کہانی،پاکستانی غازی نے بھارتی راہول کو ڈھونڈ نکالا

غازی تیمور نامی پاکستانی لاہوری نوجوان کو لندن شہر کی شورڈچ ہائی اسٹریٹ پر ایک پرس ملا جس میں راہول نامی بھارتی شخص کے کریڈٹ کارڈز تھے، اس پاکستانی نے سوچا کہ کیوں نا اس شخص کو ڈھونڈ کر اس کا پرس اس تک پہنچایا جائے تاکہ ملک کی ساکھ کو بہتر بنانے کا موقع پایا جائے۔

غازی تیمور نے گوگل سے لے کر فیس بک اور انسٹاگرام سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کھنگال ڈالے مگر راہول کہیں موجود نہ تھا۔ اس نوجوان نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر بتایا کہ لوگوں ابھی مجھے ایک پرس ملا ہے، اس میں موجود بینک کارڈ سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ Rahul R****** کا ہے، اب راہول کی تلاش کا وقت ہے۔

اس طرح غازی تیمور نے راہول کو ڈھونڈنا شروع کیا اور اسے ڈھونڈتے ہوئے لنکڈان پر سرچ کیا جہاں راہول نامی 3 لوگ موجود تھے جو لندن میں مقیم تھے۔ مگر یہ پروفائل لاک تھے تو میسج بھیجنا ممکن نہیں تھا۔

آخرکار غازی تیمور نے فیصلہ کیا کہ وہ لنکڈ ان پر موجود یوکے فوڈ اینڈ بیوریجز کمپنی میں کام کرنے والے راہول کی کمپنی سے رابطہ کریں گے۔ لیکن کیسے؟ اب پھر یہ سوال کھڑا ہوگیا کیونکہ کمپنی کی ویب سائٹ تھی نہ گوگل پر ایڈریس اور کسٹمر سروس کا بھی کوئی فون نمبر نہیں تھا۔

کمپنیز ہاؤس سے ہیڈ آفس کا پتہ معلوم ہوا جو کہ شورڈچ سٹریٹ کا ہی تھا اور دھڑکتے دل کے ساتھ جب غازی تیمور ہیڈ آفس کے باہر پہنچے تو کچھ کچھ ہوتا ہے کی انجلی کی طرح انہیں بھی اپنا شاہ رخ (راہل) مل ہی گیا، جو وہاں پر فنانس مینجر کے عہدے پر کام کرتا تھا اور یوں راہل کو اس کا پرس اور غازی تیمور کو راہل مل گیا۔

  • the man selected a very difficult way. Every credit card has bank name, bank branch code that can be found very easily. Once we go to bank the people there help especially when money matters.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >