تدریسی نصاب کو اردو میں کرنے کے اقدام پرعاصمہ شیرازی کی تنقید، صارفین کا جواب

مشہور اینکرپرسن عاصمہ شیرازی نے حکومت پنجاب کی جانب سے تمام تدریسی نصاب کو اردو میں تبدیل کرنے کے اقدام کوآڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ طے ہے ہم نے آگے کے بجائے پیچھے کی جانب سفر شروع کردیا ہے۔

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں عاصمہ شیرازی نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی دوئم جماعت کی ‘جنرل نالج’ کی کتاب کی تصویر شیئر کی اور کہا کہ دوئم جماعت کی یہ کتاب واقفیت عامہ کے نام سے متعارف کروائی گئی، تمام نصاب کو اردو میں کردینے سے نجانے کون سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہداف جو بھی ہوں یہ طے ہے کہ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سفر بڑی تیزی سے جاری ہے، پتا نہیں آج سے پانچ سال بعد ہمارے بچے دنیا کا مقابلہ کرنےکے قابل ہوں گے یا نہیں۔

عاصمہ شیرازی نے مزید کہا کہ جو بچے پہلے انگلش میڈیم اداروں میں تعلیم حاصل کررہے تھے وہ کیسے اردو نصاب کو قبول کریں گے، اور ان کا مستقبل کیا ہوگا؟

عاصمہ شیرازی کی جانب سے اردو نصاب کی مخالفت سوشل میڈیا صارفین کو پسند نہ آئی،سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ عاصمہ شیرازی کے نزدیک اردو میں تعلیمی نصاب پسماندگی کی علامت ہے لیکن بہت سے ممالک اپنی مادری زبان میں تعلیم دیتے ہیں ان میں چین، روس، جرمنی، فرانس وغیرہ شامل ہیں وہ تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہے بلکہ آگے بڑھ رہے ہیں۔

اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ یکساں نصاب تعلیم (SNC) سے دو لوگوں کو سب سے زیادہ مسئلہ ہے: – پبلشرز سے 300 کی کتاب چھپوا کر 2 سے 3 ہزار روپے میں بیچنے والے پرائیویٹ سکول مالکان کو اور – مذہب بیزار لوگ جنہیں ہمیشہ سے اردو انگلش کی کتابوں میں اخلاقی تربیت کےلیےرکھےجانےوالے اسلامی شخصیات کے چیپٹرز سےبھی مسئلہ ہے

مغیث احمد کا کہنا تھا کہ چین ، جاپان ، فرانس ، جرمنی وغیرہ جیسے ملکوں کا ٹوٹل سلیبس اُن کی اپنی زبان میں ہے اور یہ ذہنی غلام سمجھتے ہیں کہ ترقی صرف انگریزی بولنے پڑھنے والے ملکوں میں ہی ہوتی ہے

توصیف انور نامی صارف نے لکھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور ایک محبِ وطن کو اس پر فخر ہونا چاہئے دنیا میں ہمیشہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی زبان اور اپنے کلچر پر فخر کرتی اور اسکو اپناتی ہیں مگر آجکل گھٹیا سوچ والے ویسٹرن کلچر کو اپنا سمجھ کر گردنیں کٹوا رہے ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ آپکو لائیو مناظرے کا چیلنج ہے دلائل کیساتھ جب تک پلے گروپ سے پی ایچ ڈی تک تمام مضامین اردو میں نہی پڑھائیں جائیں گے اور انگریزی سے جان نہی چھوٹے گی اس قوم کی۔

سعدیہ حسین نامی صارف نے لکھا کہ امریکہ اور یو کے میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کا سروے کر لیں کہ ان میں سے کتنے انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھے ہیں اور کتنے سرکاری سکولوں میں. آپ کو جواب مل جائیگا۔

ارسلان جنجوعہ نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ بالکل چین، جرمنی اور فرانس بہت پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ وہاں کی تعلیم ان کی قومی زبانوں میں ہوتی ہے۔

 

  • This movement was first started by Molvi Abdulhaq back in 50s….but he was unable to get funding either from pvt parties nor govt. ………then federal urdu university was formed to fill this gap a bit, but again due to market pressures it has to revise its courses in english format……..
    It will be hard to do a Urdu dominated PhD as 95% of research is published in English….People living in non-English speaking countris opt to do PhD in english due to its relative ease but thier edutation starting from Kindergarten till Masters is purely dominated by local language….off course its a 50 year old demand…but it will not take us backwards….it will relieve a subconcious dilema from our childerend mind as they study in English but speak Urdu…..

    • .People living in non-English speaking countris opt to do PhD in english due to its relative ease
      ایسا دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوتا، اپنے علم اور معلومات میں اضافہ کریں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >