مودی کی تصویر اسلام آباد میں سڑکوں پر ‘بلا ‘کے روپ میں ‘امن کو تباہ کرنے والا’ تبصرے جاری

پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج 5 اگست کے دن کو بطور یوم سیاہ منارہے ہیں، اس کا مقصد 2019 میں اس روز مودی کی فسطائی حکومت کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق پاکستان میں سرکاری سطح پر یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا، کیونکہ یہ وہ دن ہے جب دو سال پہلے مودی حکومت نے کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دینے والی آئینی شقوں 370 اور 35 اے ختم کر کے ظلم ڈھائے۔
جب کہ دوسری جانب کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کا ایک نیا طریقہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد کے مختلف علاقوں بالخصوص سرینا ہوٹل کے سامنے ڈپلومیٹک انکلیو میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پوسٹرز لگائے گئے ہیں جن میں انہیں ایک خون پینے والی بلا کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔

آویزاں کیے گئے اس پوسٹر پر لکھا گیا ہے، "مودی امن کو تباہ کرنے والا ہے، اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو ہارن بجائیں”۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین ملا جلا ردعمل دے رہے ہیں جن میں سے کچھ نے اس طریقے کو سراہا ہے جبکہ کچھ صارفین اس طریقے پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحافی سلمان مسعود نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پوسٹر ڈپلومیٹک انکلیو کے قریب سرینا ہوٹل کے سامنے لگایا گیا ہے جس پر درج ہے کہ مودی ہی امن تباہ کرنے والا ہے اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو ہارن بجائیں۔

اس پر اسلام آبادین نامی صارف نے کہا کہ جہاں بولنے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں 2منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں جہاں خاموش رہنا ہو وہاں ہارن بجاتے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ ہارن بجائیں تاکہ آپ بھی امن تباہ کرنے والے بن جائیں۔

زی زی نے کہا کہ اتنے زور کا ہارن بجاؤ کہ آواز مودی تک جائے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ ہارن بجانا، ایک منٹ کھڑے ہونا، کسی کو بڑے عہدے کے طعنے دینا اور کسی کی فون کال کا انتظار کرنا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں کمزور ہو رہے ہیں۔

ایک صارف نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمشنر کو حکم ملا ہو گا کہ وہ بھی آدھی رات کو مودی کے گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگ جائے۔

ڈاکٹر جعفری لکھتے ہیں کہ کیا ہمارا دفتر خارجہ بچے چلا رہے ہیں؟

جواد نے تصویر کے جواب میں لکھا، ‘ مودی سے نفرت کرتے ہیں تو کیا پاکستانیوں کا سکون برباد کریں؟’

مانیہ غوری نے کہا کہ ریاست کا پیسہ اس مردود پر ضائع کیا جا رہا ہے۔

  • ج 5۔اگست ہے۔ دوسال قبل بھارت کی مودی سرکار نے کشمیر کی ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے انڈین یونین کا حصہ بنالیا تھا جس پرپاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا اور عہد کیا تھا کہ بھارت کو دنیا بھر میں اس حوالے سے ایکسپوز کیا جائے گا۔ سوال تو پوچھنا بنتا ہے کہ گذشتہ دوسال کی اس حوالے سے پاکستان کی حکومت کی کارکردگی کیا ہے؟ کیا دنیا نے پاکستان کے موقف کو پذیرائی بخشی ہے؟ کیا بھارت سرکار اپنے اس اقدام کو واپس لینے ہر کسی سطح پر مجبور ہوئی ہے؟ اور ہاں آج یعنی پانچ اگست کو ہم نے کیا کرنا ہے ایک ٹآنگ پر کھڑا ہونا ہے یا پھر بیٹھے رہنا ہے؟ وزیراعظم سے دست بستہ عرض ہے کہ اگلے پروگرام کا اعلان کردیں تاکہ افراتفری میں کچھ غلط نہ ہوجائے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >