جہانگیرترین گروپ ایک ایس ایچ او کی مار، واڈا کا بیان ایک بار پھرسوشل میڈیا پر زیربحث

جہانگیرترین گروپ ایک ایس ایچ او کی مار۔۔ نذیرچوہان کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہونے کے بعد فیصل واؤڈا کا بیان ایک بار پھر زیر بحث

کچھ عرصہ قبل نذیرچوہان نے بیرسٹرشہزاداکبر پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا ، بعدازاں شہزاداکبر نے انکے خلاف مقدمہ درج کرادیا جس میں یہ موقف اختیار کیا کہ نذیرچوہان نے مجھ پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا ہے جس کی وجہ سے مجھے اور میری فیملی کی جان کو خطرہ ہے۔

بعدازاں نذیرچوہان کو گرفتار کرلیا گیا تو نذیرچوہان نے شہزاداکبر سے نہ صرف معافی مانگ لی بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ آج سے جہانگیرترین گروپ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نذیرچوہان کا کہنا تھا کہ میرا جہانگیر خان ترین گروپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، جہانگیر ترین نے اپنے کیس کے لئے مجھے استعمال کیا۔

نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے مجھے استعمال کیا، جہانگیرترین کو شرم آنی چاہئے کہ اس نے میری بیماری کے دوران فون کرکے بھی نہیں پوچھا اور نہ ہی میرے بچوں سے کوئی رابطہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی ایم پی اے کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین جیسا بندہ کسی کا ساتھ نہیں دے سکتا، اس سارے معاملے پر بہت سے منافق لوگوں کے چہرے سامنے آ گئے ہیں۔ہ میرا ایک ہی لیڈر ہے اس کا نام عمران خان ہے اور رہے گا

نذیر چوہان نے کہا کہ شہزاد اکبر نے میرے بیمار ہونے پر سب سے پہلے کال کی اور میرا حال پوچھا، شہزاد اکبر سے میں نے واضع طور پر معافی مانگی شہزاد اکبر اور ان کی فیملی سے شرمندہ ہوں، میں شہزاد اکبر کی دل آزاری کی وجہ سے معذرت خواہ ہوں۔

نذیرچوہان کے جہانگیرترین گروپ چھوڑنے کے بعد سوشل میڈیا پر فیصل واڈا کا ایک کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ جہانگیرترین گروپ ایک ایس ایچ او کی مارہے۔

فیصل واڈا کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ایک کروڑ جہانگیرترین بھی آجائیں تو وہ عمران خان نہیں بن سکتے۔

سینیٹر فیصل واڈا نے یہ بیان کاشف عباسی کے شو میں دیا تھا جس پر کاشف عباسی نے کہا کہ آپ ترین گروپ کو انڈراسٹیمیٹ کررہے ہیں۔جس پر فیصل واڈا کا کہنا تھا کہ میں بہت پراعتماد ہوں۔

فیصل واڈا کے اس بیان پر بہت زیادہ لے دی بھی ہوئی لیکن حقیقت یہی ہے کہ نذیرچوہان ایک ایس ایچ او کے ہاتھوں ہی گرفتار ہوئے اور بعدازاں انکی جان معافی تلافی پر ہی چھوٹی۔

خیال رہے کہ نذیرچوہان ترین گروپ کے اہم رکن سمجھے جاتے تھے، انہوں نے اس وقت وزیراعظم عمران خان اور عثمان بزدار کے خلاف سخت بیانات بھی دئیے تھے اور کہا تھا کہ عمران خان نے عثمان بزدار کی صورت میں ایک نااہل شخص ہم پر مسلط کردیا ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جہانگیرترین نے پارلیمانی گروپ جہانگیرترین کے کہنے پر بنایا تھا ۔ راجہ ریاض نے گزشتہ روز نذیرچوہان کے ترین گروپ چھوڑنے پر کہا تھا کہ نذیرچوہان ایک جذباتی آدمی ہیں اور وہ جہانگیرترین کو غلط مشورے دیتے تھے۔

آزادکشمیر، گلگت بلتستان، سینٹ الیکشن، سیالکوٹ ضمنی الیکشن جیتنے اور 2021 کا بجٹ منطور کروانے کے بعد تحریک انصاف کا اعتماد بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے ترین گروپ بیک فٹ پر نظر آتا ہے۔نذیرچوہان نے تو جہانگیرترین گروپ چھوڑدیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیرترین گروپ کون چھوڑتا ہے۔

نذیرچوہان کی گرفتاری کے بعد ترین گروپ اس طرح متحرک نہیں ہوا جیسے جہانگیرترین کی عدالت پیش پر متحرک تھا، شاید اسکی وجہ پنجاب اور وفاقی حکومت کا اراکین کو بھاری تعداد میں فنڈز دینا اور انکے حلقوں میں ترقیاتی کام شروع کروانا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >