کابل سے امریکی سفارتکاروں کے انخلا نے ویتنام کی یاد تازہ کرادی، دلچسپ موازنہ

افغان طالبان نے ملک میں انتہائی تیزی کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت کابل کو قبضے میں لے لیا ہے جس کے بعد کابل میں واقع امریکی سفارتخانے کے عملے کی بھی افغانستان چھوڑنے کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔

امریکی سفارتی عملے و دیگر امریکی شہریوں کو افغانستان سے بحفاظت نکالنے کے لیے سفارتخانے کی عمارت کی چھت سے چنیوک ہیلی کاپٹر کا لوگوں کو لیجاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقعہ پر لی گئی تصاویر نے 1975 میں امریکا کے ویتنام سے انخلا کی یاد تازہ کرا دی جب سیگون سے امریکی سفارتی عملہ اسی طرح سیڑھی کی مدد سے چھت پر پہنچا جہاں سے ہیلی کاپٹر میں انہیں محفوظ مقام تک لیجایا گیا۔

اس صورتحال پر کئی صحافیوں، مبصرین اور وزرا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں پیش آنے والی موجودہ صورتحال ویتنام سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایک وہ ویتنام تھا اور ایک اب یہ افغانستان ہے۔

سٹیفن سیمانوٹز نامی صحافی نے کابل میں سفارتخانے سے امریکی شہریوں کو ائیرپورٹ لے جانے والی تصاویر کو ویتنام میں امریکی پسپائی سے تشبیہ دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ویتنام سے انخلا کی بھی تصویر لگائی۔

آنند رنگناتھن نے کہا کہ 45 سال بعد دوبارہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے جب کابل میں سفارتخانے کی چھت سے امریکی سفارتی عملہ اور شہری دم دبا کر بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام میں ایک کہاوت ہے کہ اس شخص کا کبھی اعتبار نہ کرو جو انتظار کا کہہ کر چلا جائے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>