خاتون ٹک ٹاکرکو ہراساں کئے جانے پر سوشل میڈیا پر 5 ٹرینڈز ٹاپ پر

لاہور میں یوم آزادی 14 اگست والے روز گریٹر اقبال پارک میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں منچلوں نے ایک خاتون سے بدتمیزی کی،کپڑے پھاڑ ڈالے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے۔

فوٹیج وائرل ہو نے پر پولیس نے 400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خاتون عائشہ اکرام نامی ٹک ٹاکر اپنے دو ساتھیوں عامر سہیل اور صدام حسین کے ہمراہ وہاں پہنچیں اور ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔

اچانک منچلوں کے ایک گروہ نے خاتون پر ہلہ بول دیا، کپڑے پھاڑے اور انہیں ہوا میں اچھالتے رہے، خاتون دہائی دیتی رہی لیکن کسی نے نہ سنی۔خاتون نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی۔

یہ ویڈیو گزشتہ روز وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر پہلے پانچ ٹرینڈز اسی موضوع پر بن گئے جبکہ گزشتہ کچھ روز سے افغانستان کے ایشوز پرپاکستان میں ٹرینڈز ٹاپ پر تھے وہ سب کے سب بلیک آؤٹ ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر گزشتہ رات سے#minarepakistan, #lahoreincident, #400men,#ayeshaکے ٹرینڈز ٹاپ پر ہیں۔

ان ٹرینڈز میں سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کی سختی سے مذمت کی اور اس واقعہ کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ حرکت کی وہ انسان نہیں لگتے، درندے ہیں جنہیں شکار نظر آئے تو ٹوٹ پڑتے ہیں۔کچھ نے لکھا کہ کچھ بیمار ذہن کے لوگ اس واقعہ پر بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ عورت وہاں کیا لینے گئی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر گلی سے گزرتی لڑکی مجھ سے محفوظ نہیں تو مجھ میں اور آوارہ کتے میں کوئی فرق نہیں تو کسی نے مطالبہ کیا کہ 400 افراد کو چھوڑیں 10 کو ہی عبرت کا نشان بنادیں تو معاشرہ سدھر جائے گا۔

ارم زعیم کا کہنا تھا کہ مجھے تو شک ہے یہ 400 آدمی اپنے گھروں میں بھی یہی کرتے ہونگے ، یہ عورت کی عزت سے عاری درندے اور جانور ہیں ۔ عورت کسی صورت محفوظ نہیں اس جنگل میں ، بس انتظار میں رہتے کہ کوئی شکار نظر آئے اور اسے نوچ کھائیں ۔

حنا پرویز بٹ نے لکھا کہ مینار پاکستان پر اکیلی خاتون کے ساتھ جو کچھ 300 سے 400 افراد نے کیا میرا سر شرم سے جھک گیا۔۔ کیا معاشرہ دن بدن اس حد تک گرتا جا رہا ہے کہ اکیلی خاتون کو پاکر حیوان بن جاتا ہے؟؟؟ کچھ بیمار ذہن کے مالک لوگ ضرور یہ کہیں گے کہ خاتون وہاں لینے کیا گئی تھی؟ خدارا رحم کھائیں عورتوں پر۔۔

وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرااکرم نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ سب کیا ہے؟

اداکارہ ماہرہ خان نے اس واقعے پر ردعمل دیا کہ میں یقین نہیں کر سکتی جو میں نے ابھی دیکھا !!! میں نے پہلے بھی کہا ہے اور میں پھر کہوں گی کہ ان آدمیوں میں سے ایک مثال بنائیں۔

ماہرہ خان نے مزید لکھا کہ میں معافی چاہتی ہوں ، میں بھولتی رہتی ہوں ، یہ اس لڑکی کی غلطی تھی !! 400 آدمی تو بیچارے غریب تھے .. وہ اس کی مدد نہیں کر سکے

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ مرد ہو تم ، تمہاری ہستی کا اتنا تو رعب ہو کہ پاس سے گزرے کوئی عورت تو وہ بے خوف ہو۔

اے آروائی کے اینکر اقرارالحسن نے لڑکی کے ہمراہ تصویر شئیر کی اور لکھا کہ مینارِِ پاکستان پر بھیڑیوں کا شکار عائشہ کے پاس رات کے اس پہر اسے صرف یہ احساس دلانے پہنچا ہوں کہ اُس نے جنسی حیوانوں کو خلاف ایف آئی آر کروا کر جس بہادری کا ثبوت دیا ہے اس پر اُسے سلام ہے۔۔۔ مجھے اس جملے پر معاف کیجئے گا لیکن خوش قسمت ہیں وہ جنہیں اس ملک میں خدا نے بیٹی نہیں دی۔

اقرار کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سید فیاض علی نے کہا کہ پہلے 400 بھیڑیوں نے اِس لڑکی کو مینارِ پاکستان پر درندوں کی طرح نوچا ۔اُس کے بعد میڈیا کے یہ گِدھ اپنی ریٹنگ کے لیے اِس لڑکی کو نوچنے اور ساری دُنیا کے سامنے ننگا کرنے آ گئے۔ تُم دونوں اور ان 400 جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ تُھو ہے ایسی گٹر صحافت پر جن کا ایمان صرف اور صرف ریٹنگ ہو

وقار فیض نے سعادت منٹو کا ایک قول دہرایا کہ ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لئے کوئی عورت نہیں ہوتی بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے۔

ننھا نافرمان کا کہنا تھا کہ مینارِ پاکستان پر لڑکی کے ساتھ جو ہوا وہ بہت برا تھا ، بہت زیادہ وہ لوگ انسان نہیں ہوسکتے مگر ان سے بھی زیادہ خطرناک یہ لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں وہ لڑکی وہاں کرنے کیا گئی تھی ؟ اس کے ساتھ جو ہوا وہ ٹھیک ہوا ، ایسے لوگوں سے بچو ۔۔رب پاک اس قوم پر رحم کرے

نوید ملک نے لکھا کہ اگر گلی سے گزرتی ہوئی لڑکی مجھ سے محفوظ نہیں تو مُجھ میں اور آوارہ کتے میں کوئی فرق نہیں۔

سلطان سالارزئی نے پاکستانی معاشرے کو تماشبین معاشرہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ کوئی ڈوب رہا ہو، کوئی مر رہاہو، کسی عمارت سے کوئی گررہاہو، کچھ درندے ایک لڑکی کے کپڑے پھاڑ رہےہوں، کسی نے مدد کےلیےآگے نہیں آنا۔ دور کھڑے ویڈیو بنانی ہے بس۔

آزادمنش نے تبصرہ کیا کہ بے غیرتی و بے شرمی کی بھی حد ہے جو مینار پاکستان واقعہ کا بھی دفاع بڑھ چڑھ کے کر رہے ہیں اور جہالت کا یہ عالم کہ ریٹویٹ بھی مل رہے ہیں، ٹویٹر جیسے sensible پلیٹ فارم پر یہ حالت ہے تو ویسے کیا حالات ہوں گے، انسانیت اور عقل سلیم ہی گھاس چرنے نکل گئی، مسلمانیت تو بعد کی بات ہے

صدف نے تبصرہ کیا کہ لڑکی یا خاتون جو کوئی بھی ہو جو کچھ بھی کررہی ہو۔۔ مرد کو کیا زیب دیتا ہے کہ وہ بھیڑیا بن جائے؟ ہمیں اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔۔ وکٹم بلیمنگ کرکے ہم اس گھناؤنی حرکت کو سپورٹ کررہے ہوتے ہیں۔ عورت مال غنیمت یا موقع نہیں ہے۔۔ اسکے محافظ بنیں نہ کہ بھیڑئیے

آصف اقبال نے تبصرہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں جنسی فرسٹریشن کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکتا سوائے اس کے کہ قانون اپنے ڈنڈے پر خاردار تار لپیٹ لے اور قانون کا ہاتھ اس قدر ظالمانہ طریقے سے وار کرے کہ کوئی ایسی حرکت کا تنہائی میں بھی تصور نہ کر سکے۔

تحسین باجوہ نے لکھا کہ ڈر کر بہنوں بیٹیوں کو گھر بٹھا لینا حل نہیں یہ درندگی اور بڑھے گی جس ملک میں عورت قبر میں بھی محفوظ نہیں وہاں کہاں کہاں سے بچائیں گے آخر مجبوراً کہیں نہ کہیں ان درندوں سے واسطہ پڑنا ہی پڑناہے. بچیوں کو کانفیڈینس دیں انکے ساتھ کھڑے ہوں. وکٹم بلیمنگ کی بجائے درندوں کو لعن طعن کریں۔

  • hmara guttar prime minister jab kahayga k ji aurat ka kasoor hota hay, mard robot nhi hota, tou what can you expect? behnchod hamari society ko theek krnay k bajaye haraami apna experiment krrha hay. Oye behn k loray, pehly apnay batay aur beti ko pakistan lay k aa, yahan unko issi roohaniyat mayn daal, phir baqi mulk ki gaand maar apni roohaniyat say. Bajaye mulk ko uss standard pay lay k jaye k yeh UK /Amreeka banay, yeh haraamzada ulta 500 saal peechay lay k jaraha hay. teri gaand pay vote ka thappa islaye nhi lagaya tha k tu Buzdaar jesi khoti awam py musallat karday, chootiya

      • o bahi, Quran ki ayat pay amal karna hota hay unko apany matlab k liye use nhi karna hota. jahan suit karta hay wahan Quran lay aaty ho beech mayn, jahan nhi suit karta wahan bhool jatay ho Islam ko
        Bolo na sach k fouj nay tabah kiya iss mulk ko, bolo na sach k Khan k apnay bachay tou London amreeka rehayn aur khan hamary bachon pay apnay roohani experiment karay, bolo na sach k Buzdar sab say na-ehal CM hay, bolo na sach k Zulfi ko bhaga diya, JKT aur Khattak k cases daaba diye , bolo na sach k Bajway ki pizza shops pay uski koi pakkar nhi ki. Pata nhi hazaaron aisay sach hayn jo boltay howay sharam aati hay, bus Quran ki ayat ko apny maqsad k liye use karna hay.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >