امام عالی مقام کی قربانی کو ”ووٹ کو عزت دو“ نعرے سے ملانے پر احسن اقبال تنقید کی زد میں

حضرت امام حسین کی شہادت کو ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے ملانے پر احسن اقبال تنقید کی زد میں

نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہ اور اُن کے جاں نثار ساتھیوں کی کربلا میں شہادت پر خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں مجالس اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف شخصیات اس موقع پر پیغامات بھی جاری کررہی ہیں۔

ایسے میں احسن اقبال نے بھی ایک پیغام جاری کیا جس پر وہ تنقید کا نشانہ بن گئے اور سوشل میدیا صارفین نے اسے پیغام سے زیادہ سیاسی ٹویٹ قرار دیدیا

احسن اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت امام حسین نے کربلا کے میدان میں پورے خاندان کی قربانی دیکر امت کے لئے سبق چھوڑا کہ اسلام میں ووٹ (بیعت) نہایت مقدس امانت ہے اس کی حفاظت جان کی قربانی دیکر کرو اور ناحق کو ووٹ دینے سے بہتر ہے کہ شہادت کو سینے سے لگا لو۔

احسن اقبال نے مزید لکھا کہ تاریخ میں ووٹ کی حرمت کی اس سے بڑی قربانی کی مثال نہیں۔

احسن اقبال کے ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسین اور اسکے پورے خاندان نے اسلام کی حرمت کیلئے قربانی دی ہے، آپکا لیڈر تو اپنی جان اور مال بچانے کیلئے ملک سے فرار ہے۔آپ ایسی مثالیں نہ دیا کرو جو آپکے خلاف ہی جائیں۔سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کس ووٹ کی عزت کا نعرہ لگارہے ہیں؟ وہ ووٹ جو آپ نے لائن میں لگ کر جنرل باجوہ کی ایکسٹنش پر دیا؟

سوشل میڈیا صارفین نے احسن اقبال کومشورہ دیا کہ اپنے لیڈران کا موازنہ ان مبارک ہستیوں سے مت کرو۔

شہاب آفریدی کا کہنا تھا کہ یقین کریں یہ بیان نوازشریف کے خلاف جائے گا اگر لوگ اس بات پر عمل کریں۔

اصغر خٹک نے جواب دیا کہ اسلام میں تو سزا ہاتھ کاٹ دینا ہے، اور آپ کے لیڈر چوری کر کے لندن بھاگ گئے، اور مثالیں آپ واقعہ کربلا کی دے رہے ہیں۔ افسوس ہے۔

ڈاکٹر زاہد نے احسن اقبال کو مشورہ دیا کہ اتنی گندی سیاست مت کریں

صہیب انصاری نے جواب دیا کہ امام عالی مقام نے دین کی سربلندی و عزت کی خاطر اپنی اور اہل و عیال کی قربانی پیش کی کربلا پہنچنے سے پہلے ہی معلوم تھا کہ آپ کو شہید کر دیا جائے گا مگر پلٹ کر راہ فرار اختیار نہیں کی دوسری طرف تم اتنے ذلیل،گھٹیا اور بے شرم ہو کہ اپنےبھگوڑےلیڈر کو پاک ہستیوں سے ملا رہے ہو

حاجی اللہ دتہ کا کہنا تھا کہ احسن صاحب خدا کا واسطہ ہے، کربلا کے واقعہ کو دنیاوی سیاست سے نہ جوڑیں ۔وہ اللہ کے لیئے سجدے میں شہید ہوگئے مگر آپ تو لاہور ایئرپورٹ بھی نہ پہنچ سکے۔ کہاں شانِ حسین (رض) اور کہاں آپ لوگوں جیسے مفاد پرست! شرم کا مقام۔

عائشہ چیمہ کا کہنا تھا کہ آپ کے لیڈر چوری کر کے بھاگ گئے اور آپ مثال کربلا کی دے رہے ہیں یہ ہے سوچ آپ کی!!!

شاہینہ نے جواب دیا کہ حق اللہ کی راہ میں شہید ہونا ایمان والوں کا کام ہے ۔۔ تم جیسے چور لٹیروں، بےغیرتوں اور بھگوڑوں کا نہیں ۔۔ لندن میں سارا خاندان آج بھی موج مستیاں کر رہا ہے ۔۔

عدنان کا کہنا تھا کہ کیا شرمناک موازنہ کیا ہے،حضرت حسین رض نواسہ رسول نےہجرت اور جدوجہد دین کی بقاء اور نفاذکےغرض سےکی،اپنی آل کی قربانی دی لیکن اصولوں پرسودا ناکیا۔ دوسری طرف آل شریف کی نفاذ دین کی کوئ سوچ نہیں۔یہاں اقتدار کےلئےاکثر پاؤں پکڑلیتے ہیں،جھوٹ پرسیاست کرتےہیں، بیماری کےبہانےاور راہ فرار۔

اکبر نے لکھا کہ جنرل باجوہ کے خلاف 3 سال مہم چلانے اسکو ظالم کہنے کے بعد لائن میں لگ کر جنرل باجوہ کی ایکسٹنشن پر ووٹ دینے والوں نے کربلا واقع پر بھی اپنی سیاست شروع کردی ہے

  • Salay ko ye bih pata nahi ki Hazrat Imam Hussein (rwt) nay Islam kay lyia apni ore apnay khandan ki qurbani di tih. Kia Shariff jo chooroun or e dakooun ka khandan ha Islam ki khatir koi qurbani day sakta ha? Ahsan Iqbal ko sha
    ram na ayee ye baat kertay huway?

    Ahsan Iqbal must apologize to every Muslim of the world for making such an absurd and none sensical political statement.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >