”اقرارالحسن کو گرفتار کرو “ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں ہے؟

سوشل میڈیا صارفین نے اے آروائی کے اینکر اقرارالحسن کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ "اقرارالحسن کو گرفتار کرو” سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

سوشل میڈیا صارفین کا الزام ہے کہ اقرارالحسن اور اسکے ساتھیوں نے ایک سازش کے تحت ملک کی بدنامی کی ہے ۔یہ ٹرینڈ چلانے والوں کا یہ بھی موقف ہے اقرارالحسن نے ہی متاثرہ خاتون کی تصاویر لیک کیں۔

سوشل میڈیا صارفین کا موقف ہے کہ اقرار الحسن اور یاسر شامی کی عادت ہے کہ وہ اپنے پروگرامز کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے کوئی نہ کوئی سٹنٹ کھیلتے ہیں، کبھی کسی کو تھپڑماردیا، کبھی کسی کے گھر گھس گئے، یاسر شامی کی ویب سائٹ ڈیلی پاکستان فحش مواد کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے اور یاسر شامی اکثروبیشتر گھٹیا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

ٹرینڈ چلانے والوں کا دعویٰ ہے کہ 2 دن تک لڑکی خاموش رہی۔ پھر اسر شامی اور اقرارالحسن نے اسے یاسرشامی کے گھر بلوایا اور اس کا انٹرویو کروایا گیا اور اس کے ذریعے پاکستان پر کیچڑ اچھالاگیا۔

ٹرینڈ چلانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقرارالحسن اور اسکے ساتھیوں نےریٹنگ کیلئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عائشہ اکرم نامی ٹک ٹاکر کے ذریعے 400 افراد پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے اور اس کیس کو میڈیا پر خوب اچھالا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ عائشہ اکرم کیساتھ کام کرنیوالا ایک شخص ریمبو اقرارالحسن کی "ٹیم سرعام” کا رکن ہے ، یہ بندہ اکثر عائشہ اکرم کیساتھ ملکر نازیبا ٹک ٹاک ویڈیوز ویڈیوز بناتا تھا اور نازیبا حرکات کرتا تھا۔جبکہ عائشہ اکرم کا انٹرویو کرنیوالے یاسر شامی سے اقرارالحسن کی گہری دوستی ہے اور انہوں نے واقعے کے 2 روز بعد ملکر یہ سازش تیار کی ہے۔

https://twitter.com/RehanSh72689259/status/1428512121277456387/photo/1

سوشل میڈیا صارفین کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ غلط حرکات 400 لوگ نہیں بلکہ عائشہ اکرم کیساتھ آنیوالے دوست کرتے رہے جن میں ریمبو بھی شامل ہے اور ریمبو ہی تھا جو ایک سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں عائشہ اکرم کو اٹھارہا تھا۔

ملیحہ ہاشمی نے اگرچہ اقرارالحسن کو گرفتار کرو کے ٹرینڈ میں حصہ نہیں لیا لیکن اسکا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اس ریمبو نامی مسخرے کی تفتیش ضرور کرے، جو عائشہ کو اٹھا اٹھا کر چھچھوری ویڈیوز بناتا رہا وہاں اپنی طرح کے چھچھورے لوگوں کو بلایا بھی اسی نےاور یہ ہے رش لگنےسے کچھ لمحےپہلےکا منظر اور اب یوٹیوب پر عائشہ سےہوئی زیادتی دکھا کر پیسےکما رہا ہے

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عائشہ نامی خاتون کے بیانات میں بھی تضادات ہیں، اس نے پولیس کو اپنے گھر کا ایڈریس بھی غلط دیا جس کی وجہ سے پولیس غلط ایڈریس پر پہنچ گئی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب عائشہ پولیس کو کاروائی نہ کرنے کا کہہ رہی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ بیہودہ حرکات میں اسکے اپنے ساتھی ملوث ہیں۔ عائشہ نے 400 بندوں پر ہراسانی کا الزام لگایا ، کیا اس نے 400 بندے گنے تھے وہاں پہ؟ ہوسکتا ہے کہ ایک دن نے غلط کیا ہو اور باقی تماشبین ہوں۔

اس پر اقرارالحسن نے بھی ردعمل دیا ہے اقرارالحسن کا کہنا ہے کہ اسی مٹی پر جئیں گے، اس مٹی کے بدخواہوں کے خلاف لڑیں گے، اسی مٹی کی خاطر مریں گے، اسی مٹی میں دفن ہوں گے اور انشاءاللہ ایک دن اسی مٹی میں احترامِ انسانیت کے پھول مہکیں گے۔

اس موقع پر اقرارالحسن نے ایک شعر بھی لکھا کہ

میرا دُکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں

اقرارالحسن نے سوال اٹھایا کہ اگر مینارِ پاکستان واقعہ عائشہ کا رچایا ہوا ڈراما تھا تو پھر اس واقعے کے بعد لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کے تبادلے کی سفارش، ایس ایس پی آپریشنز، ایڈیشنل ایس پی آپریشنز کے تبادلے، مقامی ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او کی معطلی کا حکم کیوں جاری ہوا ہے؟

اقرار نےمزید کہا کہ عائشہ کو مینارِ پاکستان پر صرف چار سو لوگوں نے نہیں نوچا، آج سوشل میڈیا پر اسے ڈراما اور بدکردارکہہ کر ہر درندہ اسے بھنبھوڑ رہا ہے۔ مطلب چار سو کرائے کے لوگوں سے یہ سب کروایا گیا اور ایک بھی حلال زادہ نہیں تھا جو اسے بچاتا۔ اصل میں یہ چار سو لوگ ہم سب ہی تھے، یہ ہمارا ہی چہرہ ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >