عوامی مقامات پر مردوں کا داخلہ بند کیا جائے، بختاور بھٹو زرداری کا مطالبہ

 

لاہور میں لڑکیوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات تیزی سے سامنے آرہے ہیں جس نے معاشرے کے بگاڑ پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں،اس حوالے سے سابق وزیرِاعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف زرداری کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے بھی آواز بلند کردی، بختاور بھٹو نے ٹوئٹر پیغام میں خواتین کے تحفظ کے لیے عوامی مقامات پر مردوں کی پابندی کا مطالبہ کردیا۔

ٹوئٹر پر ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ وہ کئی سال پہلے یوم آزادی کے موقع پر مزارِ قائد پر اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھیں کہ وہاں موجود 100 مردوں نے اُن کے ساتھ نامناسب سلوک کیا،میں کوئی ٹک ٹاکر یا یوٹیوبر نہیں تھی بلکہ ایک صحافی ہوں اور میں وہاں اپنے فرائض انجام دے رہی تھی،اس کے باوجود بھی میرے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو مینارِ پاکستان پر خاتون کے ساتھ ہوا،پولیس سے مدد مانگی توپولیس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف 4 اہلکار ہیں اور وہ 140 مرد ہیں،ہم کیسے اُنہیں روک سکتے ہیں۔

صحافی کے ان ٹوئٹس پربختاور بھٹو زرداری نے ردعمل دیا کہ یہ ایک اور تکلیف دہ واقعہ ہے،پولیس نے پورا منظر دیکھنے کے باوجود بھی مدد سے انکار کیا،ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا جاسکتا تھا،عوامی مقامات پر مردوں پر پابندی عائد کی جائے،خواتین کی حفاظت کے لیے مزید خواتین کی ضرورت ہے۔

لاہور میں مینار پاکستان پر ہوئے خاتون کے ساتھ دست درازی کے واقعے کی تحقیقات سے کیس میں اب تک چھیاسٹھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے،جبکہ چالیس ملزمان کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق مقدمے میں تین سو سے زائد زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے،گرفتارافرادکی جیوفینسنگ اورفیس میچنگ بھی کروائی گئی ہے، تمام افرادکوڈیجیٹل موبائل فرانزک کی مدد سے گرفتار کیا ہے،پولیس نےخاتون کے ساتھی ریمبو کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا،ترجمان پنجاب حکومت فیاض چوہان کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی بھی تلاش جاری ہے کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں گے۔

دوسری جانب لاہور میں چنگچی رکشے میں خاتون کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا،پولیس نے اوباش نوجوانوں کی تلاش شروع کردی،ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دو خواتین اور ایک بچی رکشے میں سوار تھے کہ اوباش لڑکوں نے ان کا پیچھا شروع کردیا۔ نوجوانوں نے خواتین سے بدتمیزی اور نازیبا حرکات کیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ دس سے بارہ موٹر سائیکل سوار نوجوان خواتین کا پیچھا کرتے رہے جن میں سے ایک نوجوان نے رکشے پر چڑھ کر خاتون سے دست درازی کی اور فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

ادھر گوجرانوالا میں بہن سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکنا بھائیوں کا جرم بن گیا،مسلح افراد نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھنٹوں تک حبس بے جا میں رکھا،فوٹیج منظر عام پر آئی تو پولیس کو بھی ہوش آیا اور متاثرہ نوجوان عبداللہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا، ایف آئی آر میں متاثرہ نوجوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ذیشان عرف ٹیڈی گجر نے ڈیرے پر بلایا اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔۔ برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی گئی،پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا دیگر کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • what non sense…is this your solution…Police must be responsible and equipped to handle the situation, man must be educated, and held accountable strictly for such doings..there must be heavy crack down against alcoholism an drug usage/supply..

  • Madam ap apny kardar ko thek kren… Ap hijab ko apnaen..musalman hony ka saboot den.. Jb ap logh he ghr sy is halat mn niklen ghe ky sath waly dekhen mery taref kren mery dress kee tareef kren .ya body suppry ap aesa use krte hen ky ap khid mardon ko apni tarf mail krti hen to ismn mardo ka kia qasoor… Ap apny ap ko sambhlen…. Pakistan or be betyan hen jo parda krti hen wo to mahfoz hen…. Or han aesy mardon ko na mard kya jy to bhtr nhi bhot acha ho gha….

  • Such an immature statement given by Bakhtawar Zardari. Their party is ruling the Sindh since last 10 years and the reporter harassment incident happened in their government era so instead of rectifying police department and relevant law making, she found the best solution to banned all men in public places. One can imagine the future of pakistan in the existence of such leadership.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >