"کون بنے گا کروڑ پتی” سے امیر ہونے والا شخص کیسے دوبارہ سڑک پر آگیا؟

 "کون بنے گا کروڑ پتی" سے امیر ہونے والا شخص کیسے دوبارہ سڑک پر آگیا؟

بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے سشیل کمار نے اپنی آپ بیتی سنائی کہ کس طرح وہ کون بنے کا کروڑ پتی سے پیسے جیتنے کے بعد جلد ہی دوبارہ سڑک پر آ گئے۔

سشیل کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں بتایا کہ انہوں نے کون بنے گا کروڑ پتی کا پانچواں سیزن جیتا تھا مگر وہ جلد ہی اس امیری کو برقرار نہ رکھ پائے اور دوبارہ پائی پائی کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔

سشیل کمار کے مطابق کے بی سی سیزن فائیو جیتنے کے بعد وہ مقامی سلیبرٹی بن گئے تھے اور ٹی وی پروگرامز میں شرکت عام تھی جس کے باعث وہ تعلیم سے دور ہوتے گئے۔ انہوں نے کچھ پیسے مختلف کاروبار میں لگائے جو کہ جلد ہی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔

 "کون بنے گا کروڑ پتی" سے امیر ہونے والا شخص کیسے دوبارہ سڑک پر آگیا؟

انہوں نے بتایا کہ وہ چیریٹی کرنے لگے تھے اور ایک مہینے میں 50 ہزار کے قریب تقریبات میں شرکت کرتے، سشیل کے مطابق انہوں نے کئی ایسی جگہوں پر چندہ دیا جہاں پیسے دینے کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو فراڈ تھا۔ اس وجہ سے ان کی اپنی بیوی سے اکثر لڑائی رہتی وہ کہتی تھی کہ انہیں صحیح اور غلط میں فرق کا پتہ نہیں چلتا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فلم ڈائریکٹر بننا چاہتے تھے اور اس کے لیے کسی دوست سے رابطہ بھی کیا لیکن اس نے کہا کہ کیونکہ وہ فلمسازی کی بنیادی چیزوں سے بھی ناواقف ہیں اس لیے اس شعبہ میں ان کا چلنا مشکل ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ایک گائیک دوست کے ہاں پناہ لی جس نے ایک پروڈکشن ہاؤس میں نوکری دلائی۔

سشیل فلمساز بننے کا خواب دیکھ رہے تھے جبکہ پروڈکشن ہاؤس میں وہ محدود کام سے جلد ہی اکتا گئے ان کا کہنا تھا مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ میں ممبئی میں ڈائریکٹر بننے نہیں آیا بلکہ میں ایہ ایسا شخص ہوں جو کہ مفرور ہے اور سچ سے بھاگنا اور چھپنا چاہ رہا ہے۔

اس شخص نے بتایا کہ کچھ بنیادی چیزیں ہیں جن پر عمل پیرا ہونا چاہیے جیسا کہ حقیقی خوشی اپنی پسند کا کام کرنے میں ہے۔ کبھی تکبر جیسے جذبات انسان کو پرسکون نہیں کر سکتے۔ صرف ایک ‘بڑی شخصیت’ بننے سے ایک اچھا شخص بننا ہزاروں گنا بہتر ہے۔ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فارغ اوقات میں 3 اسکرپٹ لکھے جو پروڈکشن ہاؤسز نے پسند کیے مگر اس کے لیے پیسے دینے کا وقت آیا تو انہوں نے حیلے بہانے کر کے صرف 20 ہزار روپے دیئے۔ پھر میں نے اپنے اس خواب کو خیرباد کہا اور واپس اپنے گاؤں آ کر ایک اسکول ٹیچر بننے کی تیاری کی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >