امریکی فوج پناہ گاہ میں؟ سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی پناہ گاہ میں امریکی فوجیوں کے کھانا کھانے کی تصویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔ اس تصویر کی حقیقت سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق یہ تصویر جعلی ہے اور یہ تصویر پاکستان کی نہیں ہے بلکہ 8 سال پرانی ہے۔ دراصل یہ تصویر نومبر 2013 کی بگرام ائیربیس کی ہے اور امریکی فوجی اپنا تہوار Thanksgiving منارہے ہیں۔

یہ تہوار ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ تھینکس گیونگ کے موقع پر خواتینِ خانہ اپنے ہاں آنے والے مہمانوں کے لیے دعوتوں کا اہتمام کرتی ہیں جن میں مرغی نما پرندہ ‘ٹرکی’ کو روسٹ کر کے خاص طور پر ڈشز میں شامل کیا جاتا ہے۔

اس تہوار سے قبل لاکھوں امریکی ملک کے طول و عرض کا سفر کر کے اپنے عزیز و اقارب اور پیاروں کے پاس پہنچتے ہیں ، جب کہ قریبی دوست اور ہمسائے بھی ایک دوسرے کی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔

امریکی فوجی چونکہ اپنے اہل وعیال اور دوستوں سے دور افغانستان میں تھے اسلئے امریکی حکومت انکے لئے ہر سال اس تہوار کا اہتمام کرتی تھی جس میں مختلف انواع کے پکوان انہیں پیش کئے جاتے تھے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے اپیل کی کہ برائے مہربانی احساس پناہ گاہوں کو متنازعہ نہ بنائیں۔

فیصل جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ارشاد باری تعالیٰ ! اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگوں کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔

اگرچہ یہ تصویر جعلی ہے لیکن سوشل میڈیا صارفی اس تصویر کو لیکر مختلف تبصرے کررہے ہیں، مختلف میمز بناکر تبصرے کررہے ہیں کہ افغان مہاجرین کے بعد امریکی مہاجرین بھی پاکستان آگئے ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے طنز کیا کہ مریکی پناہ گزین، پناہ گاہ میں

عنبرین نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ا یک وزیر اعظم تھا جو امریکہ کے ائیر پورٹ پر اپنی پینٹ اتروا آتا تھا ایک وزیر اعظم ہے جس سے امریکہ پناہ گاہ میں پناہ مانگ رہا ہے۔

مبشر حسین نے لکھا کہ بے گھر افراد کیلئے احساس پروگرام کے تحت بنائی جانے والی پناہ گاہ میں بے گھر امریکی فوجی ۔۔۔ شکریہ عمران خان


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >