ڈی سی اسلام آباد نے بلی کو پھانسی دینے کے واقعہ کی حقیقت بتا دی

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بلی کو پھانسی دینے کے واقعہ سے متعلق کہا کہ یہ ایک جعلی واقعہ رپورٹ کیا گیا اور جس شخص نے یہ تصویر شیئر کی وہ بھی لوگوں کو صرف گمراہ کر رہا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی سی اسلام آباد نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بلی کے واقعہ پر تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ افواہ بے بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بلی کے مالک نے بھی بیان دیا ہے کہ شکایت من گھڑت ہے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی گئی ہیں مگر کوئی تشدد نہیں ملا۔

حمزہ شفقات نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق اٹھنے والی سب آوازیں بے مقصد تھیں اور جس شخص کو گرفتار کیا گیا تھا اب اس کی طرف سے معافی بھی مانگی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک بلی کی تصویر وائرل ہوئی تھی جس سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسے پھانسی دیکر لوہے کی سیڑھی کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔

واقعہ کے خلاف تھانہ لوہی بیر پولیس کو انیلہ عمیر نامی خاتون کی درخواست موصول ہوئی جس پر پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے دفعہ429 اینیمل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو بھی گرفتار کر لیا تھا تاہم بعد ازاں عدالت نے اس شخص کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

  • ہمارے ہاں گند کو صاف کرنے کی بجاے اسے قالین سے ڈھانپنے کا بہت گندہ رواج ہے
    اس واقعہ میں معافی مانگنے والا شخص جسے گرفتار کیا گیا تھا بتاے کہ تصویر میں تو بلی لٹکی دھای دے رہی ہے یہ الگ بات کہ وہ مرنے سے بچ گئی ہوگی مگر ایسا کیا گیا ہے اور اس ظالم کو جس نے یہ حرکت کی ہے سزا ملنی چاہئے
    مجھے یقین ہے کہ مالک نے ایسا کیا ہے جو اب کہہ رہا ہے کہ بلی بالکل ٹھیک ہے
    سوال یہ نہیں کہ بلی کیسی ہے؟
    سوال یہ ہے کہ اسے کس نے لٹکایا جو بلاشبہ مالک ہی ہے لہذا مالک کو گرفتار کیا جاے ناکہ فوٹو شئیر کرنے والے کو


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >